لکھنؤ20اگست: اتر پردیش کے لکھنؤ میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دلت رکن اسمبلی جے دیوی کوشل نے اپنی ہی انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیتلا دیوی مندر کی تجدید کے لیے انہوں نے 76 لاکھ روپے منظور کرائے، لیکن جب وہ تجدیدی تقریب میں پوجا کے لیے پہنچیں تو انہیں نہ صرف پوجا سے دور رکھا گیا بلکہ آرتی میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا۔ ملیح آباد اسمبلی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی جے دیوی کوشل کے مطابق بدھ کو کاکوری کے شیتلا دیوی مندر میں تجدیدی کام کی تقریب منعقد ہوئی۔ وہ وہاں پوجا میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ ان کے ساتھ چیئرمین، کونسلر اور منڈل صدر سمیت پارٹی کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ جے دیوی کوشل نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ شیتلا دیوی مندر کے لیے 76 لاکھ روپے انہوں نے منظور کرائے تھے۔ ان کے مطابق جب مندر میں پوجا کا وقت آیا تو انہیں پوجا نہیں کرنے دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود کچھ لوگوں نے یہ بات بھی کہی کہ چونکہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور انہوں نے مندر کے کام کے لیے رقم منظور کرائی ہے، اس لیے ان سے پوجا کرائی جانی چاہیے، لیکن اس کے باوجود انہیں موقع نہیں دیا گیا۔ رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ خاموشی سے کھڑی رہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں آرتی کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ جے دیوی کوشل کے مطابق انہوں نے موقع پر کسی قسم کا احتجاج نہیں کیا اور بعد میں دوسری جگہ ہونے والے پوجن پروگرام میں شرکت کے لیے چلی گئیں۔
کار کی زد میں آنے سے اسکوٹی سوار کی موت
بھرت پور، 20 اگست (یو این آئی) راجستھان کے بھرت پور میں سیور تھانہ علاقے میں جمعرات کو کار کی زد میں آنے سے اسکوٹی سوار ایک شخص کی موت ہوگئی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ مرنے والے کی شناخت 42 سالہ اودل کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ اپنے گاؤں سے بھرت پور کے اندرا نگر جارہا تھا۔ کار کی ٹکر سے وہ اچھل کر سڑک پر جاگرا اور موقع پر ہی اس کی موت ہوگئی









