تحریکِ آزادی کی تاریخ صرف بڑے شہروں اور چند معروف رہنماؤں کی داستان نہیں، بلکہ اس میں ملک کے چھوٹے قصبوں اور دیہات سے تعلق رکھنے والے ان بے شمار افراد کی قربانیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی آزادیٔ بھارت کے لیے وقف کر دی۔ ضلع غازی پور کے یوسف پور، محمد آباد سے تعلق رکھنے والے غلام ربانی عباسی بھی انہی گمنام مگر قابلِ فخر مجاہدینِ آزادی میں شمار ہوتے ہیں۔
غلام ربانی عباسی 22 نومبر 1914 کو پیدا ہوئے۔ ایک ایسے دور میں جب ملک کی سیاست مختلف نظریات اور جماعتوں میں تقسیم ہو رہی تھی، انہوں نے قومی تحریکِ آزادی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا مزاج بے خوف اور انقلابی تھا اور وہ آزادی کی جدوجہد میں سرگرمی سے شریک رہے۔
غلام ربانی عباسی نے تحریکِ آزادی کے دوران جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ مقامی روایات کے مطابق وہ غازی پور، رائے بریلی، گونڈا اور لکھنؤ کی جیلوں میں قید رہے اور اس دوران ملک کے متعدد اہم رہنماؤں اور آزادی کے کارکنوں سے ان کی ملاقات ہوئی۔ان کی زندگی کے کئی واقعات ان کے بے باک اور نڈر مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ آزادی کی تحریک سے وابستہ کارکنوں اور رہنماؤں کو اپنے گھر میں جگہ دینا اور خطرات کے باوجود تحریک کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ ان کے ساتھیوں میں فرید الحق انصاری، یوسف قریشی اور دیگر مقامی کارکنوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔
غلام ربانی عباسی کی سیاسی اور قومی زندگی نہایت متحرک اور جدوجہد سے بھرپور تھی۔ تحریکِ آزادی کے دوران انہیں متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں اور تقریباً پانچ سال سخت قید میں رہے۔ وہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کے قریبی سیاسی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور فارورڈ بلاک سے بھی وابستہ رہے۔ آزادی کی جدوجہد اور بعد کی سیاسی زندگی میں ان کے تعلقات مولانا ابوالکلام آزاد، گووند ولبھ پنت، رفیع احمد قدوائی، جے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا، کرپوری ٹھاکر، چودھری چرن سنگھ، نارائن دت تیواری اور دیگر اہم قومی و سوشلسٹ رہنماؤں سے رہے۔
18 اگست کی تاریخ غلام ربانی عباسی کی زندگی سے ایک خاص تعلق رکھتی ہے۔ 1942 کی تحریکِ آزادی کے دوران وہ محمد آباد میں ترنگا لہرانے کی جدوجہد میں شریک تھے۔ ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ 18 اگست 1990 کو ہی ان کا انتقال ہوا۔ یوں یہ تاریخ ان کی جدوجہد اور ان کی یاد، دونوں سے وابستہ ہو گئی۔
آزادی کے بعد بھی غلام ربانی عباسی نے عوامی اور سیاسی زندگی میں سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ دو مرتبہ انتخاب کے ذریعے اور ایک مرتبہ نامزدگی کے ذریعے محمد آباد میونسپلٹی کے چیئرمین رہے، اور اپنے علاقے میں ”چیئرمین صاحب” کے نام سے مشہور ہوئے ۔جبکہ ضلع پریشد کے رکن اور کانگریس کی صوبائی مجلسِ عاملہ سے بھی وابستہ رہے۔ وہ پرجا سوشلسٹ پارٹی کے بانی ارکان میں شامل اور ضلع سطح پر اس کے نائب صدر بھی رہے۔ ان کی قومی خدمات اور تحریکِ آزادی میں کردار کے اعتراف میں انہیں آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر’’امرت سمان‘‘سے بھی یاد کیا گیا۔ ان کی زندگی قومی یکجہتی، بے خوف جدوجہد اور عوامی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔
غلام ربانی عباسی کا تعلق ان شخصیات سے ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد تو کی، مگر قومی تاریخ میں انہیں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ آج ضرورت ہے کہ ایسے گمنام اور فراموش کیے گئے مجاہدینِ آزادی کی زندگی اور خدمات کو تلاش کیا جائے اور نئی نسل تک پہنچایا جائے۔
18 اگست، یومِ وفات کے موقع پر غلام ربانی عباسی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا دراصل تحریکِ آزادی کے ان تمام گمنام سپاہیوں کو سلام پیش کرنا ہے جن کی قربانیوں اور جدوجہد سے آزادیٔ بھارت کی تاریخ مکمل ہوتی ہے۔
غلام ربانی عباسی کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچی قوم پرستی صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ اصولوں پر قائم رہنے، مشکل حالات میں حق کا ساتھ دینے اور ملک و عوام کی خدمت کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔آخر میں بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ تحریکِ آزادی کے اس بے باک سپاہی کو ان کے یومِ وفات پر سلام پیش کرتے ہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔