بھوپال:03؍اگست:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ بھوپال کے ناتھو برکھیڑا میں تیار ہو رہا بین الاقوامی اسپورٹس کامپلیکس ریاست کی اب تک کی سب سے بڑے اور سب سے زیادہ اہم کھیل بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی پروجیکٹوں میں سے ایک ہے۔اس سے مدھیہ پردیش میں بین الاقوامی سطح کے مقابلے منعقد ہوں گے، جس سے بھوپال کھیلوں کے عالمی نقشے پر اپنی نئی شناخت قائم کرے گا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ 985.76 کروڑ روپے کی لاگت سے 136.296 ایکڑ رقبے میں تیار ہو رہا یہ بین الاقوامی اسپورٹس احاطہ مدھیہ پردیش کو ملک کا اسپورٹس ہب بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پیر کو ناتھو برکھیڑا واقع بین الاقوامی اسپورٹس کامپلیکس (کھیل احاطہ) میں زیرِ تعمیر کاموں کا معائنہ کیا۔اس موقع پروزیر کھیل اور نوجوان بہبود نیز امداد باہمی مسٹر وشواس کیلاش سارنگ، مدھیہ پردیش یوتھ کمیشن کے چیئرمین مسٹر پروین شرما، کھیل سکریٹری مسٹر سنجیو سنگھ، کھیل ڈائریکٹر مسٹرانشومن یادو سمیت دیگر افسران اور کھلاڑی موجود تھے۔
سنتھیٹک ہاکی ٹرف
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بین الاقوامی اسپورٹس کامپلیکس میں بین الاقوامی ہاکی سنتھیٹک ٹرف کا معائنہ کیا۔وزیر کھیل مسٹر سارنگ نے بتایا کہ اس کامپلیکس میں پہلے مرحلے میں معیار کے مطابق 5 ہزار افراد کی گنجائش والے پویلین سمیت ہاکی اسٹیڈیم اور سنتھیٹک ہاکی ٹرف تعمیر کیا گیا ہے۔کھیل محکمہ کو جلد ہی اس کا قبضہ مل جائے گا۔اسی سنتھیٹک ٹرف پر اسی سال اکتوبر-نومبر میں ایشین خواتین ہاکی چیمپئن شپ منعقد کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ ایشین چیمپئن شپ کی تمام تیاریاں وقت سے پہلے مکمل کر لی جائیں۔بتایا گیا کہ اس اسپورٹس کامپلیکس میں دو کنوینشن سینٹر بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
سنتھیٹک ایتھلیٹکس ٹریک
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سنتھیٹک ایتھلیٹکس ٹریک کا معائنہ کرکے کھلاڑیوں کے لیے تیار کی جا رہی سہولیات اور تعمیراتی کاموں کی معلومات حاصل کیں۔وزیر کھیل مسٹر سارنگ نے بتایا کہ انٹرنیشنل ایتھلیٹکس فیڈریشن اور ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا کے تمام معیاروں کے مطابق 10 ہزار افراد کی گنجائش والے پویلین سمیت بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ایتھلیٹکس سنتھیٹک ٹریک تعمیر کیا جا رہا ہے۔اس ٹریک کے مرکزی مقام پر فٹبال اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے یہاں کھلاڑیوں اور ناظرین کے لیے یکساں طور پر سہولیات تیار کرنے کی ہدایات دیں۔
دتیا فتح سے جیتو پٹواری کا سیاسی قد مضبوط ہوا، کانگریس کو نئی توانائی ملی
بھوپال، 3 اگست: دتیا اسمبلی ضمنی انتخاب میں کانگریس کی کامیابی نے ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری کی قیادت کو نئی مضبوطی فراہم کی ہے۔ وجے پور ضمنی انتخاب کے بعد دتیا میں ملنے والی اس دوسری انتخابی کامیابی سے نہ صرف تنظیم پر ان کی پکڑ مضبوط ہوئی ہے بلکہ مرکزی قیادت کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس فتح کو 2028 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے کانگریس کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا اشارہ مانا جا رہا ہے۔ صوبائی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے جیتو پٹواری مسلسل تنقیدوں کی زد میں تھے اور راجیہ سبھا انتخابات میں ناکامی کے بعد ان کی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، لیکن دتیا کے نتائج نے ان کے لیے سیاسی حیاتِ نو کا کام کیا ہے۔ کانگریس نے اس انتخاب کو اپنی انا کا مسئلہ بنا رکھا تھا اور جیتو پٹواری خود ووٹنگ تک علاقے میں خیمہ زن رہے، جہاں انہوں نے صرف جلسوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ بوتھ کی سطح تک تنظیم کو متحرک کرنے اور دھڑے بندی کو کنٹرول کرنے پر خصوصی توجہ دی۔
اس انتخاب کے دوران حزبِ اختلاف رہنما امنگ سنگھار، سینئر رہنما جے وردھن سنگھ، نائب حزبِ اختلاف رہنما ہیمنت کٹارے اور کانگریس کی نوجوان ٹیم مسلسل میدان میں متحرک رہی، جبکہ سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے بھی دتیا پہنچ کر کارکنان کا حوصلہ بڑھایا۔ کانگریس رہنماؤں نے گاؤں گاؤں پہنچ کر مقامی مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا اور بی جے پی کو گھیرنے کی حکمتِ عملی پر کام کیا۔ لوک سبھا انتخابات میں چمبل-گوالیار خطے کی تمام نشستیں بی جے پی کے کھاتے میں جانے کے بعد دتیا ضمنی انتخاب کے اس نتیجے نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اس علاقے میں اپوزیشن اب بھی مضبوط سیاسی چیلنج پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دتیا کی کامیابی کے بعد کانگریس اب 2028 کے اسمبلی انتخابات کو لے کر زیادہ پر اعتماد نظر آ رہی ہے، تاہم آنے والے وقت میں تنظیم کی توسیع، عوامی تحریکوں اور مستقبل کی انتخابی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ان کے سیاسی قد کا اگلا اندازہ لگایا جائے گا۔