بھوپال، 20 ستمبر۔ دورانی ہال میں بھوپال پوئٹری اڈہ کے زیر اہتمام ’’سخن کی کہکشاں‘‘ کے عنوان سے مشاعرے کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر وجے تیواری ’وجے‘ نے کی، جبکہ ڈاکٹر محمد اعظم، سرور حبیب، محترمہ غوثیہ خان سبین اور خلیل اسلم قریشی بحیثیت مہمانان خصوصی موجود تھے۔ نظامت نوجوان شاعر سہیل عمر نے انجام دی۔
مشاعرے میں ساجد پریمـی، ڈاکٹر احسان اعظمی، سرور زیدی، محمد طاہا الحسینی، ڈاکٹر امیش مشرا، عظیم اثر، محترمہ ابھلاشا شریواستو ’انوبھوتی‘، محترمہ اپرنا پاتریکر، اشفاق انصر، سنتوش کھروڑکر، محترمہ ثمینہ قمر، کملیش نور، روپالی سکسینا ’غزل‘، ایس۔ایم۔ مبشر، بی۔این۔ تیواری ’صاحب‘، کرشن گوپال پاٹھک، فیکو بھوپالی، جے کشور چنڈیک اور انور شان نے اپنا کلام پیش کیا۔
سنتوش کھروڑکر :
’’جی حضوری کروں میں کیوں بھلا اس دنیا کی
شاعری کرنی تھی، مشہور نہیں ہونا تھا‘‘
سہیل عمر :
’’گہرائیوں میں غم کی اترتا چلا گیا
پھر یوں ہوا غموں سے ابھرتا چلا گیا‘‘
سی۔این۔ تیواری:
’’برسنا ہے تو اس دھرتی پہ برسو جو ترستی ہو
سمندر میں کوئی بارش کبھی اچھی نہیں لگتی‘‘
انور محمد ’شان‘:
’’چھاؤنی، چوک، اور جمعراتی، گھوڑا نقاس، اور تلّیا میں
ایک کٹ چائے پی کے بھوپالی، رام رام او سلام کرتے ہیں‘‘
روپالی سکسینا ’غزل‘ :
’’یاد رکھنا ہے تو پھر دل سے مجھے یاد رکھو
بھولنا ہے تو بہ صد شوق بھلا دو مجھ کو‘‘
ڈاکٹر امیش مشرا ’مخلص‘:
’’ظاہر تھا لفافے سے کہ کیا لکھا ہوا ہے
سو میں نے تیرا خط کبھی پڑھ کر نہیں دیکھا‘‘
اشفاق انصر :
’’گر نیند اتفاق سے لگ بھی گئی کبھی
تو خواب ان کے مجھ کو جگا کر چلے گئے‘‘
محمد طہٰ الحسینی :
’’دن بھر کی تھکن اوڑھ، پسینے میں نہا کر
سویا ہے کوئی سیاہ دیوار بچھا کر‘‘
کملیش نور نے کہا:
’’تمہارے پیار کی خوشبو رکھوں گا سینے میں
کہ میرے ظرف کا معیار عطر دان کا ہے‘‘
عظیم ’اثر‘ :
’’آنکھ میں ایک بھی قطرہ نہیں دیکھا جاتا
دیکھنے کو تو کئی بار سمندر دیکھے‘‘
ابھلاشا شریواستو ’انوبھوتی‘ :
’’عشق ہوتا ہے، کیا جاتا نہیں
کیا بڑھاپا، کیا جوانی، چھوڑیے‘‘
ساجد پریمـی:
’’وہ سوندھی دال کھچڑی یاد رکھو
ہرے دھنئے کی چٹنی یاد رکھو‘‘
صدر مشاعرہ وجے تیواری ’وجے‘:
’’تمام عمر گزاری ہے خواب دیکھے بغیر
ہمیں تو شرم سی آنے لگی ہے سوتے ہوئے‘‘
ایس۔ایم۔ مبشر :
’’وہ ریت پر مجھے سالوں سے لکھ رہا ہے پر
کتابِ زیست سے اس کی مٹا ہوا ہوں میں‘‘
ڈاکٹر احسان اعظمی :
’’عمر کا حسن سے وہ گہرا تعلق ہے کہ ہم
تم کو کچھ روز نہیں دیکھیں تو بوڑھے ہو جائیں‘‘
سرور حبیب نے:
’’تم نے آئینہ اگر غور سے دیکھا ہوتا
پھر کسی پر نہ یوں الزام تراشی کرتے‘‘
فیکو بھوپالی :
’’کھیلتے ہیں جہاں دنیا کے کھلاڑی جا کر
کوئی شاعر بھی غزل پڑھنے محلی جائے‘‘
ثمینہ قمر نے کہا:
’’عشق سجدہ طلب نہیں لیکن
ہو اگر اس سے سر کو خم کر دوں‘‘
ڈاکٹر غوثیہ خان سبین :
’’خوشیاں منائیں ہم نے بہت احترام سے
سڑکوں پہ آ کے رقصِ تماشا نہیں کیا‘‘
خلیل اسلم قریشی :
’’جو دل پہ گزرنا ہو حد درجے گزر جائے
دھرتی کا میری چہرہ پھر سے یہ سنور جائے‘‘
مشاعرے کے اختتام پر صدر ایس۔ ایم۔ مبشر نے تمام شعرا، سامعین اور اہلِ ادب کا شکریہ ادا کیا۔









