بھوپال:31جولائی:اسلام ایک دین فطرت ہے ۔دین فطرت سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مردو عورت اور جاندار کے اندر تین فطری تقاضے رکھے ہیں۔کھانا،پینا اور جنسی خواہشات ۔ان تینوں تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے اللہ نے این نظام بنایا ہے ،ان تینوں تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے حلال و حرام کی تمیز رکھی ہے ۔مذکورہ باتیں آج نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمائیں ۔ قاضی شہر نے فرمایا کہ محترم سامعین کھانے کی بیشمار چیزیں ہیں مگر اللہ نے ان میں چند چیزوں کو ہی حرام قرار دیا ہے ۔جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے حلال طریقہ ’نکاح‘ کا نظام بنایا ہے ۔ اللہ نے اپنے بندوں سے فرمایا کہ میرے بندو ہم نے تمہیں دنیا دی ہے اور اس میں تمہارے لئے بیشمار چیزیں پیدا کی ہیں جو حلا ل اور طیب ہیں ان سے فائدہ اٹھائو اور وہ چیزیں جنہیں ہم نے حرام قرار دیا ہے ان سے پر ہیز کرو ۔یاد رکھو شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے وہ تمہیں حلا ل چیزوں سے ہٹا کر حرام چیزوں کے استعمال پر اکسائے گا ۔خبر دار! اس کے بہکاوے میں نہ آنا ،وہ تمہیں مکرو فریب میں ڈال کر حرام چیزوں کے استعمال پر لگا دیگا ۔ہر گز اس کے مکرو فریب میں نہ آنا ۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ میں تمام لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے جائز طریقہ بتادیا ہے ۔ایسے تو اللہ نے تمام انسانوں سے خطاب کیا ہے مگر ایمان والوں سے خاص خطاب ہے کہ وہ بری اور ناپاک چیزوں سے بچیں ۔حلال اور پاکیزہ چیزوں کا استعمال کریں اور ناپاک و حرام چیزوں کے قریب بھی نہ جائیں ۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا ایمان والوں سے خصوصی خطاب یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ اپنے ایمان والے بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے اور انہیں کسی بھی حال میں راہ راست سے بھٹکا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا ۔اسے آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ ایک باپ کے 5بیٹے ہیں ،تین نالائق،بد تمیز اور بد اخلاق ہیں مگر دو بیٹے بلند اخلاق اور فرماں بردار ہیں ۔ ایسی صورت میں باپ اگرچہ اپنے تمام بیٹوں کا خیر خواہ ہوگا مگر اپنے فرماں بردار بیٹوں کیلئے ان کے دل میں زیادہ محبت ،زیادہ پیار اور زیادہ شفقت ہوگی۔ کسی اہم صلاح و مشورے کیلئے اپنے فرماں بردار بیٹوں کو ہی مخاطب کرے گا۔اللہ تعالیٰ بھی اگرچہ اپنے تمام بندوں سے پیار کرتا ہے مگر صاحب ایمان بندوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے اور اسے ہر بری عادت اور برے کام سے بچاکر رکھنا چاہتا ہے ۔اب ایمان والے بندوں کو ہی سوچنا ہے کہ وہ اپنے رب کی محبت کا جواب کس انداز سے دینا چاہتا ہے ۔
میرے دوستو اور بزرگو! اسلام نے ہر نشہ آور چیز پر مطلقاً پابندی لگائی ہے کیوں کہ یہ نشہ آور چیزیں فقط بربادی کا سامان ہیں۔ جس کے لب لگیں اسے برباد کرکے چھوڑا ۔
ہادی دو عالم ﷺِ نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یہ حدیث اسلام کے واضح، جامع اور زندگی کو محفوظ کرنے والے اصول کو بیان کرتی ہے ۔ایسا اصول جو انسان کے ذہن، صحت اور معاشرے کی حفاظت کرتا ہے۔
میرے بھائیو! سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے نشہ کو کیوں حرام قرار دیا ؟ جواب ہے کیونکہ اس سے عقل خراب ہوتی ہے، ہوش جاتا ہے، فیصلے غلط ہوتے ہیں، گناہوں کے دروازے کھلتے ہیں، جسمانی تباہی ہوتی ہے، گھر اور معاشرہ برباد ہوتا ہے اور انسان ،انسان نہیں سمجھ کے اعتبار سے جانور بن جاتا ہے ۔اچھی اور بری چیزوں کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ۔
عقل انسان کی سب سے بڑی نعمت ہے،اور نشہ اسی نعمت کو بیکار کر دیتا ہے۔ اس لئے تھوڑا نشہ بھی حرام ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:‘‘جو نشہ زیادہ مقدار میں کرے،اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔اس لئے اسلام نقصان کا دروازہ پوری طرح بند کر دیتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں ہر قسم کی نشہ آور چیزوں سے محفوظ فرما۔
آخر میں قاضی شہر نے اس دعا کے ساتھ اپنا خطاب مکمل فرمایا کہ اے اللہ ہماری عقل، ایمان اور صحت کی حفاظت کر،ہماری نسلوں کو پاکیزہ اور محفوظ رکھ اور حلال، پاک اور نفع بخش چیزوں کی طرف ہماری رہنمائی فرما۔