پٹنہ29جولائی: 30 جولائی 2026 کو بانکی پور اسمبلی سیٹ کے لیے ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل بہار میں ایک بڑا سیاسی دھماکہ ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پر بی پی ایس سی ٹی آر ای 4.0 کے تحت ریاست کے نوجوانوں اور امیدواروں کے لیے 32,388 اساتذہ کی اسامیوں پر بھرتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پرائمری سے لے کر ہائیر سیکنڈری تک، یعنی کلاس 1 سے 12 تک کے ہزاروں پوسٹوں کا احاطہ کرتا ہے۔ بانکی پور ضمنی انتخاب میں ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل اس “جاب کارڈ” کو این ڈی اے کا ایک بڑا سیاسی ماسٹر اسٹروک سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سمراٹ چودھری کا یہ داؤ بانکی پور کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگا یا پرشانت کشور کی ’’زمینی سطح کی حکمت عملی‘‘ حکمران اتحاد کی چال کو مات دے دے گی ؟ گزشتہ چند گھنٹوں سے بہار میں 32,388 سرکاری نوکریوں کی خبریں سوشل میڈیا پر گونج رہی ہیں۔ تاہم، بانکی پور اسمبلی حلقہ خالصتاً شہری علاقہ ہے، جہاں 18-34 سال کی عمر کے 110,000 نوجوان ووٹر ہیں۔ یہ حلقہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے خواہشمندوں، بے روزگار گریجویٹس، اور اساتذہ کی بھرتی کے امتحان (BPSC TRE) کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کی ایک قابل ذکر آبادی کا مرکز ہے۔ ایسی صورت حال میں، کیا بی جے پی کا یہ داؤ ووٹروں پر اثر انداز ہوگا یا نہیں ،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بی جے پی امیدوار نیرج کمار سنہا کی حمایت میں سامنے آنے والے سمراٹ چودھری نے اس فیصلے کو یہ پیغام دینے کے لیے استعمال کیا ہے کہ این ڈی اے حکومت صرف وعدے ہی نہیں کرتی بلکہ تیزی سے روزگار فراہم کرتی ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ بھرتی کا یہ تاریخی اعلان بی جے پی کے لئے فائدے مند ثابت ہوگا ۔









