بھوپال 29جولائی:چیف منسٹر ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں مدھیہ پردیش اعلیٰ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ایک اور تاریخی کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وزارت مواصلات اور محکمہ ٹیلی مواصلات، حکومت ہند کی بلند نظر پہل کے تحت گوالیار میں ملک کا پہلا ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون قائم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے خصوصی پروگرام میں مدھیہ پردیش حکومت اور محکمہ ٹیلی مواصلات، حکومت ہند کے درمیان مجوزہ ایم او یو پر دستخط کیے جائیں گے۔ یہ ایم او یو پروجیکٹ کی عمل آوری کے لیے اسپیشل پرپز کمپنی کی تشکیل کی راہ ہموار کرے گا اور ملک میں ٹیلی مواصلات مینوفیکچرنگ کے نئے دور کی شروعات کرے گا۔تقریباً 350 ایکڑ میں تیار ہونے والا یہ جدید ترین پلگ اینڈ پلے صنعتی کلسٹر موبائل آلات، نیٹ ورک ایکوپمنٹ، آپٹیکل فائبر، سیمی کنڈکٹر اور 5جی اور 6جی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سمیت ٹیلی مواصلات کے شعبے کی تمام قدر کی زنجیر کو ایک ہی احاطے میں تیار کرے گا۔ اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لیے حکومت ہند نے 493 کروڑ روپے کی سو فیصد مرکزی گرانٹ منظور کی ہے۔ وہیں ریاستی حکومت کی طرف سے سڈا علاقے میں 100 ایکڑ اور گوالیار آئی ٹی پارک میں 70 ایکڑ، کل 170 ایکڑ زمین بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے، جس کی تخمینہ قیمت تقریباً 596 کروڑ روپے ہے۔
پروجیکٹ کے تحت عام ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن لیبارٹریز، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹرز، جدید اسٹوریج، سڑک اور آئی سی ٹی جیسے مشترکہ بنیادی ڈھانچے بھی تیار کیے جائیں گے۔اس بلند نظر پروجیکٹ سے آنے والے سالوں میں تقریباً 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا امکان ہے اور تقریباً 5 ہزار براہ راست ہنر مند روزگار پیدا ہوں گے۔ ان میں سے تقریباً 3,500 روزگار پہلے مرحلے میں ہی دستیاب ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ پروجیکٹ راؤٹر، انٹینا، آپٹیکل فائبر، چپ اور دیگر ٹیلی مواصلاتی آلات کی ملکی پیداوار کو فروغ دے کر درآمدات پر انحصار کم کرے گا اور برآمدات کو نئی رفتار فراہم کرے گا۔
پروجیکٹ میں ڈکسن ٹیکنالوجیز، ایچ ایف سی ایل، تیجس نیٹ ورکس، وی وی ڈی این اور سرما ایس جی ایس جیسی اہم ٹیلی کام اور الیکٹرانکس کمپنیاں اینکر انویسٹر کے طور پر جڑ رہی ہیں۔ ابتدائی کمٹمنٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 150 سے 200 ایکڑ رقبے میں تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری مجوزہ ہے۔ پروجیکٹ کا انتظام اسپیشل پرپز کمپنی کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں مدھیہ پردیش حکومت کی 51 فیصد اور محکمہ ٹیلی مواصلات، حکومت ہند کی 49 فیصد حصہ داری ہوگی۔
ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کو ملک کی سب سے پرکشش صنعتی سرمایہ کاری کی جگہوں کے طور پر تیار کرنے کے لیے خصوصی ترغیبی پیکیج بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اہل فکسڈ کیپٹل انویسٹمنٹ پر زیادہ سے زیادہ 200 کروڑ روپے تک 50 فیصد کیپٹل گرانٹ، میگا پروجیکٹس کے لیے روزگار کی تخلیق میں امداد، ہر نئے ملازم کی مہارت کی ترقی پر مالی امداد، صرف 1 روپیہ پریمیم پر زمین کی الاٹمنٹ اور 30 سالوں تک برائے نام لیز کی شرح کا شق شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسٹامپ ڈیوٹی کی سو فیصد واپسی، ابتدائی پانچ سالوں تک بجلی کے ٹیرف میں فی یونٹ 2 روپے کی چھوٹ، فریٹ سبسیڈی، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی امداد، پیٹنٹ اور دانشورانہ ملکیت کے اخراجات کی تلافی اور گرین انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دینے والے خصوصی مراعات بھی فراہم کیے جائیں گے۔









