شہنشاہ جذبات دلیپ کمار جیسے فنکار صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں ۔ دلیپ کمار ہندوستانی سنیما کا وہ چمکتا آفتاب تھے جنہوں نے اپنی اداکاری سے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور نئی نسل کے ادا کاروں کے لئے انکی حیثیت ایک اسکول کی ہے جنکی تقلید کرکے نئی نسل کے اداکار استفادہ کر رہے ہیں ۔ آج اس عظیم فنکار کی پانچویں برسی ہے ۔ ۷ ؍جولائی ۲۰۲۱کوساڑھے ۹۸ سال کی عمر دنیائے فانی رخصت ہوئے دلیپ کمارصاحب کے بارے اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ شاید ہی ان کی زندگی کا کوئی گوشہ چھوٹا ہو جس پر فلمی مبصرین نے روشنی نہ ڈالی ہو۔یہاں مقصد دلیپ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکی یاد وں کو پھر سے تازہ کرنا ہے۔ دلیپ کمار کی عظمت کا اعتراف انکے بعد آنے والے اداکاروں نے ہمیشہ کیا ہے کہ دلیپ کمار کی فلموں کو دیکھ کر اور انکی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے اداکاری کی بارکیاں سیکھیں۔ دلیپ کما ر کی شہرت اورمقبولیت میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی سپر اسٹار امیتابھ بچن کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فلموں کی تاریخ دو حصوں میں لکھی جائے گی،ایک حصہ دلیپ کمار سے پہلے کا اوردوسرا حصہ دلیپ کمار کے بعدکا تاریخ پر مبنی ہوگا۔
اس کی ایک دیگر مثال پیش خدمت ہے:’’ ممبئی کی سب سے پرانی ادبی ۔فلمی تنظیم ’’آشیرواد ‘‘ کی ایک تقریب کو خطاب کرتے ہوئے شتروگھن سنہا نے دلیپ کمار کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم میں سے کئی اداکا ر پونا فلم انسٹی ٹیوٹ سے نکل کر آئے ہیں ، جبکہ دلیپ کمار اپنے آپ میں خود اداکاری کا ایک انسٹی ٹیوٹ ہیں۔یہ سن کر تقریب میں موجود دلیپ کمار نے ایک شگفتہ مسکراہٹ کے ساتھ اس عزت افزائی کے لئے شتروگھن سنہا کا شکریہ ادا کیا۔
جنوبی ہند (ساؤتھ انڈین سنیما) کے سپر اسٹا ر کمل ہاسن دلیپ کمار کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ۱۹۸۱ میں جب میری پہلی ہندی فلم ’’ایک دوجے کیلئے ‘‘ریلیز ہوئی تو مجھے لگا کہ اب دلیپ کمار صاحب سے ملنے کا موقع ملے گا تو ان سے مل کر اپنی پرفارمینس کے بارے میں بات کروں گا۔ کمل ہاسن بتاتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو ،تقریباً ۱۵ سال تک مجھے ہندی فلمیں دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملاتھام کیونکہ اس دور میں جنوبی ہندوستان میں ہندی فلمیں بہت ہی کم ریلیز ہوا کرتی تھیں۔ اس دور کی بہترین فلمیں میں نہیں دیکھ پایا تھا۔ اسکے بعد میں نے دلیپ صاحب کی ۱۹۶۱ میں ریلیز ہوئی کلاسک فلم ’’گنگا جمنا دیکھی یہ فلم اداکاروں کی لئے ایک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی طرح ہے اور واقعی یہ فلم میں نہیں دیکھ پایا تھا۔ فلم ’’ ایک دوجے کیلئے ‘‘ کی سلور جوبلی پارٹی میں دلیپ کمار صاحب آئے تو ان کو دیکھتے ہی میں ان کی طرف دوڑا، ان کا ہاتھ ایک پرستار کی طرح پکڑا۔ہاتھ پکڑتے ہی میری آنکھوں میں آنسوں آگئے۔ انہوں نے مجھے مبارکباد دی۔میں نے ان سے کہا آپ کی فلم بہت اچھی لگی، انہوں نے کہا کون سی فلم؟میں نے کہا ’’گنگا جمناـ‘‘وہ مجھے دیکھنے لگے۔میںنےان سے کہا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی دیکھی ہے اس لئے میرے لئے یہ فلم نئی ریلیزہی ہے۔
دسمبر ۲۰۲۰ میں دلیپ صاحب کی ۹۸ ویںسالگرہ پر قومی آواز نے یواین آئی کا ایک مضمون شائع کیا تھاجس میں ہندی سنیما کے جانے مانے اداکار دھرمیندر نے کہا تھا کہ دلیپ کمار ان کے بھائی ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ دونوں الگ الگ ماں کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔دلیپ صاحب ہندی فلم جگت کا ایک اہم ستون تھے۔انہوں نے ہمیشہ لتا منگیشکر کو اپنی چھوٹی بہن مانا اور ہر سال رکشا بندھن کے دن لتا جی انہیں راکھی باندھنے جاتی تھیںاور آخری وقت تک انکی خیریت دریافت کرتی رہیں تھیں ۔