شیوپوری:07؍جولائی:(پریس ریلیز)گزشتہ پانچ جولائی کے روزنامہ اخبار میں شائع خبرسے معلوم ہوا کہ مدھیہ پردیش سرکار اسی برسات میں یعنی مساوی شہری قانون کا بل پاس کرکے اسے قانون بنانے جارہی ہے۔ جس کامسودہ تیار کرلیاگیاہے۔ اس میں آدیواسیوں، گھرمنتو،نیم گھومنتو(خانہ بدوش) ذاتیوں کو اس قانون کی تعمیل سے مستثنی رکھاجائے گا۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ ہماری مدھیہ پردیش حکومت آدیواسیوں اورخانہ بدوشوں کوملک کے دیگر شہریوں سے کمتر یاالگ درجے کا شہری مانتی ہے۔ یاعام شہریوں سے بالاترتسلیم کرتی ہے، اگراس مجوزہ قانون میں سب پر مساوی طورپر نافذ نہیں کیاجاتاہے اس کانام مساوی شہری قانون کیوں ہے؟ اس کانام غیرمساوی شہری قانون یعنی(ان یونیفائڈ سول کوڈ)رکھاجاناچاہئے۔ ظاہر ہے کہ یہ قانون صرف مسلمانوںکے شرعی عایلی قانون اوررسم ورواج اورثقافت پر حملہ ہے۔









