درگ چھتیس گڑھ :07؍جولائی (پریس ریلیز) تقریباً ایک مہینے سے رام مندر چڑھاوے کی خبریں ٹی وی، سوشل میڈیا اور اخبارات میں جالی سرخیوں میں مسلسل جگہ پارہی ہیں ۔ اربوں کے چڑھاوا کے اصل چوروں کو بچانے کے لئے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ چند کروڑوں کے چھوٹے چھوٹے چوروں کو بکرا بنا کر اربوں کے بڑے چوروں کو بچایا جارہا ہے ۔ چوری کے وہ اربوں روپے کہاں گئے ۔ ؟ کس کس کے حصے میں گئے ۔ چوری کے اربوں روپے کا استعمال کہاں اور کیسے کیا گیا ۔ سرکار نے رام بھکتوں کے غضب سے بچنے کے لئے معاملے کو ایس آئی ٹی کے حوالے کردیا ہے
۔ ایس آئی ٹی وہی کر رہی ہے جو سرکار چاہتی ہے ۔ رام بھکت سوچ رہے ہیں کے چڑھاوے کے اربوں روپے بنگال کے چناؤ میں خرچ ہوئے ہیں اور باقی یوپی میں خرچ ہونے والے ہیں ۔ ؟ میرا مشورہ ہے کے جس طرح سرکار وقف بورڈ میں دو ہندو داخل کرنے پر اڑی ہے اسی طرح دو مسلمانوں کو رام مندر چڑھاوا کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے ۔ ہندؤں کو وقف بورڈ میں شامل کرنے سے وقف کو جو فائیدہ ہوگا دو مسلمانوں کو شامل کرنے سے رام مندر ہی نہیں ہر مندر کے چڑھاوے کی کمیٹی میں مسلمانوں کے شامل ہونے سے وہی فائیدہ ملے گا اور مندروں میں چڑھاوے کی چوری پر لگام لگانے میں کامیابی ملے گی ۔









