7 جولائی برصغیر کے ایک ایسے عظیم سپوت کا یومِ پیدائش ہے جس نے اپنی پوری زندگی برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد میں گزار دی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ آج ان کے نام اور خدمات سے بھی پوری طرح واقف نہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں مولانا برکت اللہ بھوپالی کی، جنہیں بھارت کی آزادی کے ان کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے وطن سے ہزاروں میل دور رہ کر بھی آزادی کی شمع روشن رکھی۔حال ہی میں ان کے نام پر قائم برکت اللہ یونیورسٹی کے نام کی تبدیلی کو لے کر بحث چھڑی۔ اس معاملے پر سیاسی آرا مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اس تنازعے نے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہم اپنے مجاہدینِ آزادی کو ان کی خدمات کی بنیاد پر یاد رکھتے ہیں یا وقتی سیاسی عینک سے دیکھنے لگے ہیں؟ قوموں کی شناخت صرف ان کے حال سے نہیں بلکہ ان کے ماضی ، سیاسی شعور اور تاریخ سے بھی ہوتی ہے، اور جب تاریخ کے نمایاں کردار ہی سوالوں کے گھیرے میں آ جائیں تو نقصان صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پوری قومی کا ہوتا ہے۔7 جولائی 1854 کو بھوپال میں پیدا ہونے والے مولانا برکت اللہ غیر معمولی علمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہوں نے جاپان، امریکہ، جرمنی اور افغانستان جیسے ممالک میں رہ کر برطانوی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر بھارت کی آزادی کی تحریک کو بین الاقوامی آواز دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان چند انقلابی رہنماؤں میں تھے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کو صرف بھارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا۔تاریخ کا ایک اہم باب یہ بھی ہے کہ 1915 میں کابل میں قائم ہونے والی عارضی حکومت میں راجہ مہندر پرتاپ صدر جبکہ مولانا برکت اللہ بھوپالی وزیرِ اعظم مقرر ہوئے۔ اس حکومت کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ بھارت صرف ایک غلام ملک نہیں بلکہ آزادی کا حق رکھنے والی قوم ہے۔
یہاں ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر راجہ مہندر پرتاپ کے نام پر آج ملک میں یونیورسٹی قائم ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں، تو پھر مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام پر قائم ادارے پر تنازع کیوں؟ یہ کسی شخصیت کو کم یا زیادہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں بلکہ انصاف کا سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا برکت اللہ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جلاوطنی میں گزارا اور بیرونِ ملک کے ہی ہو کر رہ گئے، بیرونِ ملک رہ کر آزادیٔ بھارت کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، انقلابی لٹریچر تیار کیا اور برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط فکری محاذ قائم کیا۔ ایسے مجاہدِ آزادی کے نام پر قائم تعلیمی ادارے پر اعتراض یقیناً یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے قومی ہیروز کا احترام یکساں معیار پر کر رہے ہیں یا مختلف شخصیات کے لیے مختلف پیمانے اختیار کیے جا رہے ہیں؟
اگر واقعی ہم مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں تو یہ اعتراف صرف ان کا نام برقرار رکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی نظر آنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ برکت اللہ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی (Central University) کا درجہ دیا جائے تاکہ ان کے نام سے منسوب یہ ادارہ قومی سطح پر علمی و تحقیقی مرکز بن سکے۔ اس کے ساتھ ہی بھوپال اور ملک کے دیگر حصوں میں ان کے نام سے مزید اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں۔ جس شخصیت نے اپنی پوری زندگی بھارت کی آزادی ، علم اور قومی بیداری کے لیے وقف کر دی، اس کی یاد صرف تقریبات یا سالگرہوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور نئی نسل کی فکری تربیت کے ذریعے زندہ رہنی چاہیے۔ قومیں اپنے محسنوں کا احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ ایسے ادارے قائم کر کے کرتی ہیں جو آنے والی نسلوں کو ان کی فکر، جدوجہد اور قربانیوں سے روشناس کراتے رہیں۔مولانا برکت اللہ بھوپالی نے اپنی پوری زندگی وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی، مگر انہیں اپنے وطن کی مٹی بھی نصیب نہ ہو سکی۔ 20 ستمبر 1927 کو امریکہ کے شہر سان فرانسسکو میں ان کا انتقال ہوا، جس کے بعد انہیں کیلیفورنیا کے شہر سیکرامنٹو میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ حقیقت آج بھی ہر محبِ وطن کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس شخص نے بھارت کی آزادی کے لیے پوری دنیا میں جدوجہد کی، اس کی آخری آرام گاہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ہے۔ ایسے مجاہدِ آزادی کی یاد کو محض تقریبات تک محدود رکھنا ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔مولانا برکت اللہ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو قومی اتحاد تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی کی جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ملک کے تمام طبقات اور مذاہب ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد نہ ہوں۔ ان کے نزدیک وطن سب کا مشترکہ سرمایہ ہے اور آزادی بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری۔
وقت آ گیا ہے کہ مولانا برکت اللہ بھوپالی کی خدمات کا اعتراف صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی کیا جائے۔ اس سلسلے میں چند اقدامات فوری طور پر کرنے کے ہیں:
• برکت اللہ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی (Central University) کا درجہ دیا جائے تاکہ یہ ادارہ قومی سطح پر تحقیق، اعلیٰ تعلیم اور فکری رہنمائی کا مرکز بن سکے۔• مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام سے قومی اور ریاستی سطح پر اردو، عربی اور فارسی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں، جہاں ان زبانوں کے ساتھ تہذیب، تاریخ اور بین الاقوامی مطالعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق ہو۔
• ان کے نام سے اردو صحافت، عربی، فارسی، بین الاقوامی تعلقات، آزادی کی تحریک اور قومی یکجہتی پر خصوصی تحقیقی مراکز (Research Centres) قائم کئے جائیں تاکہ نئی نسل ان کی فکر اور خدمات سے روشناس ہو سکے۔
• جس طرح حکومت یہاں ہائی کورٹ بینچ قائم کرنا چاہتی ہے، نئے ادارے قائم کرتی ہیں اور مختلف منصوبوں کو منظوری دیتی ہیں، اسی جذبے کے ساتھ مجاہدینِ آزادی کے نام پر بھی تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی اداروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جانا چاہیے، تاکہ قوم اپنے اصل ہیروز سے مسلسل جڑی رہے۔
• مولانا برکت اللہ بھوپالی کے ساتھ کابل کی عارضی حکومت اور تحریکِ آزادی سے وابستہ دیگر مجاہدین کے نام پر ہاسٹل، کالج، لائبریریاں، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اسکالرشپس اور یادگاری لیکچر سیریز شروع کی جائیں۔ اس سے نہ صرف آزادی کی مشترکہ تاریخ محفوظ ہوگی بلکہ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب، قومی یکجہتی، باہمی احترام اور بھائی چارے کا پیغام بھی آنے والی نسلوں تک پہنچے گا۔
قابلِ غور ہے کہ حکومت نے ایک ایسی زبان کے فروغ کے لیے تقریبا 18یونیورسٹی(سوشل میڈیا سے ملی معلومات کے مطابق) قائم کی ہیں جوتقریباً Dead Languageمانی گئی ہے۔ایک ایسی زبان جو فوت ہوچکی ہے، جس کے بولنے والے بہت کم ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب سنسکرت جیسی زبان کے لیے اتنے وسیع پیمانے پر ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں تو اردو، عربی اور فارسی جیسی زبانوں کے لیے، جو آج بھی بھارت اور بین الاقوامی سطح پر لاکھوں شہریوں کی علمی، ادبی، مذہبی اور ثقافتی زندگی کا حصہ ہیں اور جن کا بین الاقوامی دائرۂ اثر بھی بہت وسیع ہے، قومی سطح پر اسی سنجیدگی کے ساتھ جامع ادارے کیوں قائم نہیں کیے جاتے؟ زبانوں کی ترقی کو مقابلے کا نہیں بلکہ علمی تنوع اور قومی سرمائے کے فروغ کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ اگر بھارت واقعی اپنی کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی شناخت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اردو، عربی اور فارسی کے فروغ کو بھی قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ہوگا، اور اس سے بہتر خراجِ عقیدت مولانا برکت اللہ بھوپالی جیسے عظیم عالم اور مجاہدِ آزادی کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ان کا ذکر صرف کسی تنازعے کے موقع پر ہوتا ہے، جبکہ ان کی شخصیت اس سے کہیں بڑی ہے۔تاریخ کے اہم کرداروں کو فراموش کرنا کسی بھی قوم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ قومیں اپنے ہیروز کو اس لیے یاد رکھتی ہیں کہ آنے والی نسلیں جان سکیں اور جاننے کے ساتھ ساتھ ان سے متاثر (Inspire) ہو کہ آزادی صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ جلاوطنی، فکری جدوجہد، سفارت کاری اور مسلسل قربانیوں سے بھی حاصل ہوتی ہے۔
مولانا برکت اللہ بھوپالی کی یومِ پیدائش ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ تاریخ کو تعصب یا سیاست کے چشمے سے نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں پڑھا جائے۔ اگر ہم اپنے مجاہدینِ آزادی کو بھلا دیں گے تو آنے والی نسلوں سے اپنی ہی تاریخ کا ایک اہم باب چھین لیں گے۔
برکت اللہ بھوپالی صرف بھوپال یا کسی ایک طبقے کی شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ بھارت کی آزادی کی اس مشترکہ جدوجہد کی علامت ہیں جس میں مذہب، زبان اور علاقائی شناخت سے بالاتر ہو کر وطن کو آزاد کرانے کا خواب دیکھا گیا تھا۔ ان کا نام صرف ایک یونیورسٹی کا نام نہیں، بلکہ بھارت کی آزادی کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
اگر ہم اپنے ایسے ہیروز کو فراموش کرنے لگیں گے تو تاریخ ہمیں بھی فراموش کر دے گی اور بھارت کی ایک بہت بڑی مشترکہ وراثت، تہذیب، بھائی چارگی کھو دے گی۔