بھوپال:06؍جولائی:مدھیہ پردیش پولیس کی جانب سے 15 سے 30 جولائی تک چلائی جانے والی ریاست گیر عوامی بیداری مہم’’نشے سے دوری ہے ضروری 2.0‘‘ کو وسیع اور مؤثر شکل دینے کے مقصد سے پولیس ہیڈکوارٹر میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر کیلاش مکوانہ کی صدارت میں اعلیٰ سطحی بین محکمہ جاتی رابطہ میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میںایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کمیونٹی پولیسنگ مسٹر ڈی پی گپتا، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آ ف پولیس نارکوٹکس مسٹر ڈی شری نواس ورما،ڈائریکٹر کھیل اور نوجوان بہبود محکمہ (ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس) مسٹر انشومان یادو، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس(کمیونٹی پولیسنگ) مسٹر ونیت کپور، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (نارکوٹکس) مسٹرکمار پرتیک، اسٹاف آفیسر ٹو ڈی جی پی مسٹر ملیہ جین سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
میٹنگ میں سماجی انصاف اور معذور افراد استحکام کاری محکمے کی پرنسپل سیکریٹری شریمتی سونالی پونکشی ویانگنکر، اسٹیٹ میڈل ہیلتھ اور ویلنیس ٹاسک فورس کی ممبر سکریٹری ڈاکٹر اوشا کے نائر، محکمہ تکنیکی تعلیم کے کمشنر مسٹر اودھیش شرما،محکمہ محنت کے اسسٹنٹ سکریٹری مسٹر شیویندر گرجن،محکمہ صحت کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر نِتن پٹیل، نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر راہول سنگھ بھدوریا سمیت سماجی انصاف، اسکول ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، تکنیکی تعلیم، صحت و خاندانی بہبود، کھیل و نوجوان بہبود، شہری انتظامیہ، پنچایت و دیہی ترقی، رابطہ عامہ اور محنت محکموں کے سینئر افسران نے حصہ لیا۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر کیلاش مکوانہ نے میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نشے سے دوری ہے ضروری ‘‘صرف پولیس کی مہم نہیں، بلکہ معاشرے کو نشے سے پاک بنانے کی ایک وسیع عوامی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2025 میں رائے پور میں ڈی جی پی / آئی جی پی کانفرنس میں وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ نے منشیات کے خلاف فیصلہ کن کارروائی، عوامی بیدار، سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال اور نشہ چھوڑنے والوں کی متاثرکن کہانیوں کو معاشرے تک پہنچانے پر خصوصی زور دیا تھا۔ اسی نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے مدھیہ پردیش پولیس اس سال اس مہم کو مزید وسیع انداز میں چلائے گی۔انہوں نے بتایا کہ 15 جولائی کو بھوپال کے رویندر بھون میں وزیر اعلیٰ اس مہم کا آغاز کریں گے۔ مہم کے دوران پوری ریاست میں اسکولوں، کالجوں، ہاسٹلز، اسپورٹس اداروں، گرام پنچایتوں، شہری علاقوں، صنعتی اکائیوں اور عوامی مقامات پر بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی مہم کو قومی سطح پر سراہا گیا تھا اور اس سال تمام محکموں کی شمولیت سے اسے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (نارکوٹکس)مسٹر ڈی شری نواس ورما نے مہم کا تفصیلی کار منصوبہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال Whole-of-Government Approachکے تحت مختلف محکموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 15 روزہ مہم کے لئے یومیہ سرگرمیوں کا تفصیلی کیلنڈر تیار کیا گیا ہے ،اس کے تحت نشے کے خلاف حلف، ریلیاں، انسانی زنجیر، اسٹریٹ ڈرامے، مختصر فلموں کی نمائش، پینٹنگ، پوسٹر، مضمون اور سلوگن کے مقابلے، ہاسٹلز اور جھگی بستیوں میں بیداری پروگرام، کھیل سرگرمیاں اور سوشل میڈیا پر مبنی عوامی پیغام نافذ کئے جائیںگے ۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے 500 میٹر کے دائرے میں مؤثر کارروائی بھی یقینی بنائی جائے گی۔میٹنگ میں مختلف محکموں نے مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے – اپنے کار منصوبہ پیش کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ محکمہ سماجی انصاف اور معذور افراد استحکام کاری نے حکومت ہند کے نیشنل ایکشن پلان (NAPDDR) کے تحت تربیت یافتہ تقریباً 12 ہزار رضاکاروں اور 500 سے زائد ماسٹر ٹرینرز کو مہم سے جوڑنے ، ہوسٹلوں اور نوجوانوں کے درمیان خصوصی بیداری پروگرام نافذ کرنے اور تمام سرگرمیوں کو ’’نشہ مکت بھارت ابھیان‘‘ پورٹل اور موبائل ایپ پر اپ لوڈ کرنے کا مشورہ دیا۔ محکمہ نے آرٹ آف لیونگ، برہما کمارس اور گائتری پریوار جیسے سماجی و روحانی تنظیموںکو بھی مہم سے جوڑنے کی تجویز دی۔
محکمہ صحت اور خاندانی بہبود نے اپنی وسیع فیلڈ نیٹ ورک، آشا ورکرز، ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرس اور نشہ نجات کلینکس کے ذریعہ دیہی سطح تک بیداری مہم چلانے کی منصوبہ بندی پیش کی ۔محکمہ نے نشہ چھوڑچکے افراد کے ترغیبی تجربات کو معاشرے تک پہنچانے پر بھی زور دیا۔محکمہ تکنیکی اور اعلیٰ تعلیم نے انجینئرنگ کالجوں، پولی ٹیکنک اداروں، آئی ٹی آئی اور یونیورسٹیوں اور کالجوںمیں ڈرگ فری کیمپس مہم ،ذہنی صحت بیداری ،پیئر پریشر سے بچاؤ، مختصر فلمیں، لیکچرز اور اسٹریٹ ڈراموںاور دیگر سرگرمیوں کے توسط سے لاکھوں طلباء کو جوڑنے کا کار منصوبہ شیئر کیا۔
محکمہ کھیل اور نوجوان بہبود نے کھیل اکادمیوں اور تربیتی مراکز اور ضلع سطحی کھیل انعقادات کے توسط سے کھلاڑیوں اور نوجوان تک نشہ نجات کا پیغام پہنچانے اورریاست کے معروف کھلاڑیوں کے ترغیبی پیغامات کی وسیع تشہیر کی یقین دہانی کی۔ محکمہ محنت نے صنعتی اداروں اور مزدور تنظیموں ،گرام سبھائوں اور یووا سمواد پروگراموں کے توسط سے بڑی تعداد میں مزدوروں کو مہم سے جوڑنے کا ایکشن پلان پیش کیا۔ جبکہ پنچایت اور دیہی ترقیات محکمے نے گرام سبھاؤں اور خواتین خود امدادی گروپوںاور پنچایت سطح کی میٹنگوں کے ذریعہ مہم کو ہر ایک گائوں تک پہنچانے کی حکمت عملی شیئر کی ۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (کمیونٹی پولیسنگ)مسٹر ونیت کپور نے بتایا کہ دیہی دفاعی کمیٹیاں، شہری سیکیورٹی کمیٹیاں اور کمیونٹی پولیسنگ نیٹ ورک کی فعال شراکت یقینی بتاتے ہوئے مہم کو حقیقی عوامی تحریک کی شکل دی جائیگی۔نوجوانوں میں سماجی ذمہ داری کی پیداکرنے کے مقصد سے شروع کئے جا رہے سوشل سکیورٹی کریڈٹ پروگرام کو بھی مہم سے جوڑا جائے گا۔
میٹنگ میںیہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام محکمے مقررہ ایکشن پلان کے مطابق روزانہ سرگرمیاں انجام دیں گے اور ان کی باقائدہ پروگریس رپورٹ پولیس ہیڈکوارٹر کو فراہم کروائی جائیگی۔ میٹنگ اس بات پرخصوصی زور دیا گیا کہ مختلف محکموں کی مشترکہ کوششوں،وسیع عوامی شراکت، رضاکار تنظیموں، تعلیمی اداروں، شعبہ کھیل ، سماجی اور روحانی اداروں اور میڈیا / سوشل میڈیا کے تعاون سے’’ نشہ سے دوری ہے ضروری 2.0‘‘ مہم کو ریست گیر عوامی تحریک کی شکل دی جائیگی ، جس سے نوجوانوں اور سماج کے ہر ایک طبقہ تک نشہ نجات کا پیغام مؤثر طریقے سے پہنچ سکے۔









