نئی دہلی یکم جون: کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے یکم جون کو ایک پریس کانفرنس کے دوران مودی حکومت کو تعلیم کے شعبہ میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحان کے نظام میں موجود خامیوں اور سی بی ایس ای کے آن لائن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام سے متعلق تنازعہ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے لاکھوں نوجوان مختلف امتحانات میں بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں کا شکار ہوئے ہیں، لیکن حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے عوام کی توجہ دیگر موضوعات کی طرف مبذول کرا رہی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ملک میں مسلسل مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور بعض خود کشی جیسے انتہائی سخت اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت اس بحران پر سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ’من کی بات‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک کے لاکھوں طلبا اپنے مستقبل کے تعلق سے پریشان ہیں تو حکومت آم کی اقسام، جل زیرہ کی ترکیب اور گرمیوں میں پانی پینے کی اہمیت جیسے موضوعات پر بات کر رہی ہے۔پون کھیڑا نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے حالیہ بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایک جانب راہل گاندھی نوجوانوں کے مسائل اور امتحان میں بے ضابطگیوں پر بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت ان معاملات پر خاموش ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران نیٹ، سی یو ای ٹی، جے ای ای مینز، بی پی ایس سی اور دیگر متعدد امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس سے لاکھوں طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف مقابلہ جاتی امتحانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اسکولی تعلیم اور بورڈ امتحانات بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کا نعرہ ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ تھا، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اصل نعرہ ’نہ پڑھوں گا، نہ پڑھنے دوں گا‘ ہو۔









