بھوپال:یکم؍جون:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں پیر کو منترالیہ میں منعقدہ میٹنگ میں وزیراعلیٰ سہل ٹرانسپورٹ خدمات( مکھیہ منتری سگم پریوہن سیوا) کے تحت ریاست میں بسوں کے نفاذکے لیے مدھیہ پردیش مسافرٹرانسپورٹ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں بورڈ کے ڈپٹی چیئرمین اور وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر اْدے پرتاپ سنگھ، چیف سکریٹری مسٹر انوراگ جین سمیت سینئر افسران موجود تھے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے سامنے بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر منیش سنگھ نے پریزنٹیشن پیش دہا۔پورے مدھیہ پردیش کو سات خطوں — اندور، اجین، بھوپال، جبل پور، ساگر، گوالیار اور ریوا — میں تقسیم کرتے ہوئے ان شہروں میں پہلے سے فعال شہری ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے بارے میں معلومات دی گئیں۔بتایا گیا کہ پی ایم ای-بس سروس اور وزیراعلیٰ سگم ٹرانسپورٹ سروس یوجنا کے تحت بسوں کا نفاذسب سے پہلے اندور خطے سے شروع کیا جائے گا۔ اندور خطے کے تحت اندور ڈویزن کے تمام اضلاع اور اندور میں قائم اٹل اندور سٹی ٹرانسپورٹ سروس لمیٹڈ (A.I.C.T.S.L.) اب پورے اندور ڈویزن سے شروع ہونے والی بس سروسز کے دائرکار میں کام کریں گے۔اندور خطے سے وزیراعلیٰ سگم ٹرانسپورٹ سروس کے تحت درج ذیل تین زمرہ کی بسیں جولائی ماہ سے چلانے کی تجویز پیش کی گئی ہے:
(الف) اندورسے مدھیہ پردیش کے دیگر اضلاع کو جوڑنے والے انٹر سٹی سڑکوں پر بسوں کا نفاذ ۔
(ب) اندور شہر میں سٹی بسوں کا نفاذاور اس زمرے میں مضافاتی علاقوں تک نوٹیفائیڈ راستوں پر بھی بسیں چلائی جائیں گی۔
(ث) اندور ڈویزن سے ملحقہ ریاستوں مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور اتر پردیش جانے والے بین الریاستی راستوں پر معاہدے کے مطابق بسوں کا نفاذ۔اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ پی ایم ای-بس سروس کے تحت 150 الیکٹرک بسوں کا نفاذبھی اندور شہر میں جولائی ماہ سے شروع کرنے کی تجویز ہے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری وزیراعلیٰ سکریٹریئٹ نیرج منڈلوئی، ایڈیشنل چیف سکریٹری شہری ترقیات اور رہائشات سنجے دوبے، ایڈیشنل چیف سکریٹری مالیات منیش رستوگی، ایڈیشنل چیف سکریٹری دیہی ترقیات دیپالی رستوگی، ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ سنجے شکلا اور دیگر افسران موجود تھے۔
اندور ڈویزنل کمشنر ڈاکٹر سدام کھاڈے ، کلکٹر اندور مسٹرشیوم ورما اور کمشنر میونسپل کارپوریشن اندور مسٹر شیتج سنگھل وی سی کے توسط سے میٹنگ میں شامل ہوئے۔