بھوپال:26؍مئی:(پریس ریلیز) مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، ساگر کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاش جوہر‘‘کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد 24 مئی 2026 کو ہوٹل یشودا پیلیس، ساگر میں ضلع کوآرڈینیٹر آدرش دوبے کے تعاون سے کیا گیا۔
ساگر میں منعقدہ “سلسلہ اور تلاشِ جوہر” کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ساگر ضلع میں ’سلسلہ اور تلاشِ جوہر‘ کے تحت منعقد ہونے والا یہ پروگرام ادبی صلاحیتوں کو اسٹیج فراہم کرنے کی ایک اہم پہل ہے۔ ساگر کی ثقافتی اور ادبی روایت ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے اور یہاں کے سینئر قلم کاروں کے ساتھ ساتھ نوجوان تخلیق کاروں میں بھی اردو ادب کے تئیں خاص دلچسپی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں تک اردو شاعری کا تعلق ہے، یہ صرف عشق اور غزل تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس میں حب الوطنی، انسانیت اور سماجی سروکاروں کا گہرا اظہار بھی موجود ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جائے اور انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع ملیں۔
ساگر ضلع کے ضلع کوآرڈینیٹر آدرش دوبے نے بتایا کہ ادبی و شعری نشست دو اجلاس پر مبنی تھی ۔ پہلے اجلاس میں شام 6:00 بجے تلاش جوہر منعقد ہوا جس میں ضلع کے نئےتخلیق کاروں نے فی البدیہہ مقابلے میں حصہ لیا۔ حکم صاحبان کے طور پر ساگر کے سینئر شعرا سراج ساگری اور ڈاکٹر گجادھر ساگر موجود تھے جنہوں نے نئے تخلیق کاروں کو شعر کہنے کے لیے دو طرحی مصرعے دیے۔ دیے گئے مصرعوں پر نئےتخلیق کاوں کے ذریعے کہی گئی غزلوں اور ان کی پیشکش کی بنیاد پر ایاز رنگریز نے پہلا، رنجیت سنگھ لودھی نے دوسرا، اور رشی وشوکرما نے تیسرا مقام حاصل کیا۔
پہلا، دوسرا، اور تیسرا مقام حاصل کرنے والے تینوں فاتحین کو اردو اکیڈمی کی طرف سے بالترتیب 3000/-، 2000/-، اور 1000/- روپے کی انعامی رقم اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
دوسرے سیشن میں شام 7بجے “سلسلہ” کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت سینئر شاعر ڈاکٹر گجادھر ساگر نے کی۔ جبکہ مہمانان زی وقار کی حیثیت سے سراج ساگری اور رام نریش راجپوت اسٹیج پر موجود رہے۔ اس موقع پر رام نریش راجپوت نے اردو شاعری میں حب الوطنی کے موضوع پر خطاب پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو شاعری کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو اکثر ذہن میں عشق، محبت، غزل اور محبوب کی باتیں آ جاتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب کا ایک بہت بڑا اور سنہرا حصہ حب الوطنی اور ہندوستاں کی محبت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔
بھارت کی آزادی کی جنگ سے لے کر آج تک، اردو شاعروں نے اپنے قلم سے نہ صرف سوئے ہوئے معاشرے کو جگایا بلکہ لوگوں کے دلوں میں وطن کے لیے مر مٹنے کا جذبہ بھی پیدا کیا ہے۔اردو شاعری میں حب الوطنی صرف ایک موضوع نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید احساس ہے۔ اردو کے شاعروں نے مذہب، ذات اور فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ہمیشہ ‘ہندوستان کو اپنا محبوب مانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حب الوطنی کی بات آتی ہے تو اردو کے اشعار اور نظمیں لوگوں کی زبان پر سب سے پہلے آتی ہیں۔
شعری نشست میں جن شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں:
چلتی یہاں شیتل پون بہتی یہاں گنگ و جمن
ہنستے یہاں غنچہ دہن جب صبح کی پھوٹے کرن
~ڈاکٹر گجادھر ساگر
سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں
جو سمجھتے ہیں وہ ہشیار ہوا کرتے ہیں
~سراج ساگری
میر غالب ابھی بھی زندہ ہیں
شعر ان کا کوئی مرا ہی نہیں
~ارون دوبے
جینے کی نئی راہ بناتی ہیں کتابیں
انسان کو انسان بناتی ہیں کتابیں
~انیل جین
نہ ڈھونڈے ملے گا وہ نرمل سا لہجہ
فضائے ادب محترم کرنے والا
~اصغر پیام
تو جہاں میں امن کا عنوان ہے
اے وطن تیری نرالی شان ہے
~ابرار احمد
پہلے سب کو سلام کرتے ہیں
پھر کوئی اور کام کرتے ہیں
~مکیش سونی
زمانے میں اکثر بجھا سب سے پہلے
غریبوں کے گھر کا دیا سب سے پہلے
~نعیم ماہر
پروگرام کی نظامت کے فرائض آدرش دوبے نے انجام دیے۔ پروگرام کے اختتام پر مکیش سونی نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں پنکج سونی، دیپیکا یادو، مہیندر آٹھیا، شیام شرن دوبے، گووند داؤ، نرنجنا جین، ہرشا سونی، جابر سیفی، منو پٹیل، سرجیت سنگھ، نلِن جین، ممتا بھوریا، نکھل تیواری، آدتیہ ساگری، سنتوش شریواستو، آکاش پٹیل، ہیمانک سینی سمیت بڑی تعداد میں ادب دوست موجود رہے۔









