لکھنو30اپریل: اتر پردیش کے شہر بریلی کے قریب ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں بہار کے ایک 30 سالہ امام کو مبینہ طور پر مار پیٹ کے بعد چلتی ٹرین سے پھینک دیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ متوفی کی شناخت مولانا توصیف رضا مظہری کے طور پر ہوئی ہے، جو بہار کے ضلع کشن گنج کے بکھوٹولی گاؤں کے رہائشی تھے۔ مولانا توصیف رضا مظہری پیشے کے اعتبار سے ایک امام اور مدرسہ کے استاد تھے اور وہ بہار کے سیوان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
وہ بریلی میں تاج الشریعہ کے عرس میں شرکت کے لیے گئے تھے اور واپسی کے دوران یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ریلوے حکام نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثہ قرار دیا، تاہم اہل خانہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے۔ مولانا کی اہلیہ تبسم خاتون کے مطابق، انہوں نے اس پوری واردات کو ویڈیو کال کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ 26 اپریل کی رات ان کے شوہر نے انہیں فون کیا اور وہ شدید خوفزدہ لگ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ انہیں مار رہے ہیں۔ تبسم خاتون کے مطابق، مولانا بار بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے :’’میں چور نہیں ہوں، میں مدرسہ میں پڑھاتا ہوں‘‘۔انہوں نے اپنے بیگ اور کتابیں بھی دکھائیں، مگر کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے مزید بتایا :’’میں نے ویڈیو کال پر دیکھا کہ وہ لوگ انہیں گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ رہے تھے، تھپڑ مار رہے تھے اور بے رحمی سے پیٹ رہے تھے۔ یہ منظر انتہائی خوفناک تھا۔‘‘