ممبئی24اپریل: شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ہونے والی ریکارڈ ووٹنگ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے موجودہ پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود ووٹروں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی واضح علامت ہے کہ عوام اپنے جمہوری حق کے تئیں سنجیدہ ہیں اور وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے گھروں سے باہر نکلے۔ سنجے راؤت کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 92 فیصد اور تمل ناڈو میں 84 سے 85 فیصد کے درمیان ووٹنگ کا ہونا ایک غیر معمولی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی حالات اور بارش کے باوجود لوگوں کا ووٹنگ مراکز تک پہنچنا جمہوریت پر ان کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر انتخابی عمل سے متعلق نظام یعنی ایس آئی آر کو بہتر انداز میں نافذ کیا جاتا تو ووٹنگ کی شرح اور بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں کچھ پالیسیوں کے نفاذ کے طریقہ کار نے بھی عوام کو زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کیا۔ ان کے مطابق جب عوام کو لگتا ہے کہ ان کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں تو وہ بھرپور طریقے سے جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ مہاراشٹر کی سیاست پر بات کرتے ہوئے سنجے راؤت نے مہاوکاس اگھاڑی کے اندر جاری مشاورت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ’ماتوشری‘ جا کر سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں آئندہ قانون ساز کونسل انتخابات سمیت کئی اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اتحاد کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔