لکھنؤ24اپریل: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش کی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں نظم و نسق کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور عام عوام کے لیے انصاف حاصل کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ صرف انصاف کا نظام کمزور پڑا ہے بلکہ انتظامی مشینری کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ لکھنؤ میں پارٹی دفتر پر منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے ہاتھرس سمیت کئی حساس واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد معاملوں میں متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کے کارکنان کے ساتھ بھی ناانصافی ہو رہی ہے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سے جڑے افراد سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی روح اور جمہوری قدروں کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اکھلیش یادو نے انتخابی ماحول پر بات کرتے ہوئے مغربی بنگال کا ذکر کیا اور کہا کہ وہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود عوام بڑھ چڑھ کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اتر پردیش میں بھی انتخابات کے دوران اسی طرح کی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ انتظامی افسران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو محسوس کر رہے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے ’پی ڈی اے‘ یعنی پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان طبقات کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور سماجی انصاف کے لیے ان کی آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔









