نئی دہلی29جولائی: لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آج مودی حکومت کو کئی محاذ پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ انھوں نے جنگ بندی، ٹی آر ایف، پہلگام حملہ میں ہلاک شبھم اور گزشتہ روز ایوان میں سونیا گاندھی کے آنسوؤں کا تذکرہ کیے جانے پر اپنی بات مختصر لیکن جامع انداز میں سبھی کے سامنے رکھی۔ اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’میں ان سبھی جوانوں کو سلام پیش کرنا چاہتی ہوں جو ہمارے ملک کے ریگستانوں میں، گھنے جنگلوں میں، برفیلی پہاڑیوں میں ہمارے ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ جو ہر لمحہ ملک کے لیے اپنی جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ 1948 سے لے کر اب تک، جب پاکستان کی طرف سے کشمیر پر حملہ کیا گیا، ہمارے ملک کی سالمیت کی حفاظت کرنے میں ہمارے جوانوں کا بڑا تعاون رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ آزادی ہمیں عدم تشدد کی تحریک سے ملی، لیکن 1948 میں پاکستان کے پہلے حملہ سے لے کر آج تک ملک کی سالمیت کو قائم رکھنے میں فوج کا کردار بہت اہم رہا ہے۔‘‘ مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ذریعہ 28 جولائی کو لوک سبھا میں کی گئی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’کل وزیر دفاع نے ایک گھنٹہ کی تقریر کی، جس میں انھوں نے بہت ساری باتیں کیں، لیکن ایک بات چھوٹ گئی۔ 22 اپریل 2025 کو جب 26 لوگوں کو برسرعام مارا گیا، تو یہ حملہ کیسے اور کیوں ہوا؟ اس کا جواب انھوں نے نہیں دیا۔‘‘ بعد ازاں انھوں نے کچھ تلخ سوال داغ دیے۔ انھوں نے کہا ’’میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ملک کے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا اس ملک کے وزیر اعظم کی نہیں ہے؟
کیا اس ملک کے وزیر داخلہ کی نہیں ہے؟ کیا اس ملک کے وزیر دفاع کی نہیں ہے؟ کیا اس ملک کے این ایس اے کی نہیں ہے؟‘‘
برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کی تقریروں پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’وزیروں نے پارلیمنٹ میں بہت سی باتیں کہیں۔ تاریخ کی پرانی باتیں سنائیں، لیکن اصل سوال کا جواب نہیں دیا… پہلگام میں حملہ کیسے ہوا، کیوں ہوا؟ یہ سوال آج بھی ذہن میں کھٹک رہا ہے۔‘‘ پرینکا نے پہلگام حملہ میں ہلاک شبھم دویدی کی اہلیہ کا بیان بھی ایوان میں پڑھ کر سنایا جس میں بہت درد چھلک رہا تھا۔ یہ بیان پڑھتے ہوئے پرینکا کچھ جذباتی بھی ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’پہلگام حملہ میں شہید ہوئے شبھم دویدی کی بیوی نے کہا– میں نے اپنی دنیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے دیکھا، وہاں ایک سیکورٹی گارڈ نہیں تھا۔ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ حکومت نے ہمیں وہاں یتیم چھوڑ دیا تھا۔








