ٹونک:24؍اپریل(پریس ریلیز) گزشتہ کل ڈاکٹر سید عبدالمہیمن قادری کی ٹونک تشریف آوری پر ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ محفل کی صدارت استاد شاعر شوق احسنی نے کی۔ پروفیسر عزیزاللہ شیرانی کی سرپرستی میں یہ شعری نشست دیر رات تک جاری رہی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سید عبدالمہیمن قادری حیدرآبادی رہے اور مہمانانِ اعزازی میں شاہد لطیف صاحب برہانپوری، ولی شمیمی برہانپوری اور نواب ممتاز علی بھوپالی شامل رہے۔
قاری ذاکر حسین کی تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز ہوا، نعتِ پاک قاری حارث واصفی نے پڑھی۔
رشید بھائی نے واصف صاحب کی غزل سے مشاعرے کی شروعات کی:
آپ ہی آپ مت کہا کیجے
کچھ ہماری بھی سن لیا کیجے
نواب واصفی
اتنی ہمارے بیچ غلط فہمیاں ہوئیں
وہ بھی سنا ہے اس نے جو میں نے کہا نہیں
ولی شمیمی برہانپوری
روز پیروں تلے کچلتا ہوں
پھر بھی سر پر سوار ہے دنیا
عزت واصفی
پہلے ملتی ہیں نظریں پھر وہ مسکراتے ہیں
اس طرح محبت کی واردات ہوتی ہے
اعجاز فائز ی
جبیں جھک گئی تو جھکا دل بھی تاباں
فقط سجدہ کرنا عبادت نہیں
بشیرالدین تاباں
یہ دنیا سنتی ہے پیسے والوں کی
اپنے پاس نہیں ہے پیسہ چپ بیٹھو
شاہد لطیف برہانپوری
مسائل جو کرتے تھے پیدا ہمیشہ
سنا ہے مسائل کا حل لکھ رہے ہیں
ڈاکٹر سید عبدالمہیمن قادری
نبیل واصفی، شہریار بیگ، ممتاز بھوپالی نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔
شوق احسنی صاحب نے صدارتی کلمات اور پروفیسر عزیزاللہ شیرانی نے شکریہ کے الفاظ پیش کیے۔
مشاعرے کی شاندار نظامت قاری نواب واصفی نے کی۔دیر رات تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں فہیم الدین مراد، مرزا نسیم بیگ، اسلم انصاری، قاری ذاکر، بدر میاں، حارث واصفی، سادات رئیس، انیس پٹیل، حبیب الدین بھائی، فرحت بھائی، عمران انصاری، شکیل انصاری، عابد نیازی، اللہ دیا بھائی، ذیشان بھائی حیدرآباد موجود رہے۔









