بھوپال 24اپریل: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ دودھ کی پیداوار سے متعلق سرگرمیاں کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے لیے ” کسان فلاح سال” کے تحت ریاستی حکومت ڈیری سرگرمیوں کو خصوصی طور پر فروغ دے رہی ہے۔ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے ریاست کے دودھ یونینز کو دی جا رہی مدد سے دودھ کے جمع میں اضافہ ہوا ہے اور کسانوں کو بہتر قیمت بھی مل رہی ہے۔ تعاون کے جذبے سے ڈیری سرگرمیوں کو وسعت دی جا رہی ہے اور ڈیری کمیٹیوں میں خواتین کی رکنیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈیری کوآپریٹو کوریج کے فروغ و استحکام، نئی ڈیری پروسیسنگ، مصنوعات کی تیاری، مویشی چارہ پلانٹس کی جدید کاری، ڈیری ویلیو چین کی ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور دودھ و دودھ سے بنی اشیاء کی فروخت بڑھانے کے لیے مقررہ مدت کے ساتھ عملی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ڈیری ترقیاتی منصوبہ کے تحت 26 ہزار دیہات کو شامل کرنے اور روزانہ 52 لاکھ کلوگرام دودھ جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے سمَتو بھون میں منعقدہ اس میٹنگ میں کوآپریٹو وزیر مسٹر وشواس کیلاش سارنگ، مویشی پروری و ڈیری ترقی کے وزیر مسٹر لکھن پٹیل، سینئر رکن اسمبلی و چیئرمین مسٹر ہیمنت کھنڈیلوال، چیف سیکریٹری مسٹر انوراگ جین اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین مسٹر مینش شاہ موجود تھے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے تجربے کا فائدہ دارالحکومت سے لے کر دیہات تک یقینی بنایا جائے۔ دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے برانڈ کو مضبوط بنایا جائے اور نئی پیکجنگ ڈیزائن کے ذریعے مصنوعات کی رسائی کو وسیع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور مختلف ڈیری مصنوعات کی تیاری کے لیے جدت اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کو ڈیری ٹیکنالوجی کی جدید تکنیکوں سے روشناس کرانا بھی ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مثالی مویشی پالنے والوں کو اعزاز دینے، دودھ دینے والے جانوروں کی نمائش منعقد کرنے اور معلومات کی ترسیل کے لیے ضلع سطح پر پروگرام منعقد کیے جائیں۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے معاہدے کے بعد سال 2025-26 میں 1752 نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی گئی ہیں اور 701 غیر فعال سوسائٹیوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ ریاست میں روزانہ 9 لاکھ 67 ہزار کلوگرام دودھ جمع کیا جا رہا ہے اور 153 نئے بلک ملک کولر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کی ادھار فروخت بند کر دی گئی ہے۔ دودھ جمع کرنے کا عمل موبائل ایپ کے ذریعے شروع کیا جا رہا ہے، جس سے دودھ فراہم کرنے والوں کو مقدار، معیار اور قیمت کی فوری معلومات مل سکے گی۔ فیلڈ عملے کی نگرانی کے لیے فیلڈ فورس مانیٹرنگ ایپ بھی شروع کی گئی ہے۔
میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ دودھ کے معیار میں بہتری، پیداوار میں نقصان کم کرنے اور یکساں پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے۔ اندور میں 30 میٹرک ٹن صلاحیت کا دودھ پاؤڈر پلانٹ شروع کیا جا چکا ہے۔ شیوپوری میں 20 ہزار لیٹر صلاحیت کے ڈیری پلانٹ اور گوالیار ڈیری پلانٹ کی مضبوطی کا کام جاری ہے۔ مویشی چارہ پلانٹس کی صلاحیت کے مکمل استعمال کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پی پی پی ماڈل پر بھی پروسیسنگ پلانٹس کے قیام کو فروغ دیا جائے گا۔ اجلاس میں زرعی پیداوار کمشنر مسٹر اشوک برنوال، ایڈیشنل چیف سیکریٹری مالیات مسٹر منیش رستوگی، پرنسپل سیکریٹری مویشی پروری و ڈیری ترقی مسٹر اماکانت امراؤ، پرنسپل سیکریٹری کوآپریٹو مسٹر ڈی پی آہوجا سمیت ریاستی حکومت اور این ڈی ڈی بی کے دیگر افسران موجود تھے۔