ممبئی: 24؍اپریل (پریس ریلیز) گزشتہ دنوں ممبئی کے وائی ایم سی گراونڈ میں جشنِ شاہ ثقلین علیہ الرحمہ کے پُر نور موقع پر ۳۱ جوڑوں کا اجتماعی نکاح عمل میں آیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا قاری رومان ثقلینی نے بہت ہی بہترین انداز کلام پاک قرآت کی۔ حافظ و قاری عامل ثقلینی نے بہترین نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا ساتھ ہی بلبلِ خانقاہ ثقلینیہ شرافتیہ کے حسیب رونق صاحب نے بھی منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ مولانا عابد ثقلینی نے اپنے منفرد انداز میں بہترین خطاب قرآن و حدیث کی روشنی میں مفصل و مدلل بیان سے سامعین کو محظوظ و مستفیض کیا۔ بعد نماز مغرب ۳۱ جوڑوں کا نکاح جانشینِ الشاہ ثقلین علیہ الرحمہ حضور پیرو مرشِدالحاج الشاہ غازی میاں ثقلینی القادری مدِظلہ العلی النورانی کے زیر سرپرستی عمل میں آیا۔ نکاح کے بعد پیرومرشِد نے تمام جوڑوں کو مبارکباد دی اور انہیں دعاؤں کے ذریعے فیضان سے نوازا۔
حضرت شاہ ثقلین اکیڈمی آف انڈیا کےگزشتہ ۲۱ سالوں سے مسلسل اجتماعی نکاح کے انعقادکا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ چار ماہ پہلے سے ممبئی و مضافات کے علاقوں کی گلیوں اور محلوں میں اعلان کیا جاتا ہے۔ ان ہی طے شدہ جوڑوں کا رجسٹریشن ہوتا ہے جن کا رشتہ طے ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی اکیڈمی کی ویریفیکیشن ٹیم کے ذریعے دیکھا جاتا ہے کہ واقعی ضرورتمند ہیں کہ نہیں، انہیں اجتماعی نکاح میں شامل کیا جاتا ہے۔
۲۱ ویں اجتماعی نکاح کی تقریب میں ممبئی و مضافات سے کئی مشہور و معروف شخصیات کے ساتھ ریاستی وزیر ایم پی، ایم ایل اے اور نگر سیوکوں نے شرکت کی۔ جن میں ملند دیورا، آمین پٹیل،منوج جامسوتکر، نواب ملک،جاوید جنیجا، شہزاد ابراہنی،کپتان ملک، کے علاوہ ڈاکٹر قاسم امام اور کثیر تعداد میں صحافی حضرات نے بھی شرکت کی۔ صلوٰۃ و سلام کے بعد پیرومرشِد نے دعا فرمائی ہمارے ملک میں امن و شانتی رہے۔ ہر علاقے، شہر، قصبہ،ریاست میں ہمیشہ خوشحالی و امن امان رہے۔ اکیڈمی کی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر اکیڈمی کو مبارکباد دی گئی اور تمام لوگوں کے حق میں بہتری کے لئے دعا کی گئی۔ آئے ہوئے تمام مہمانان کو اکیڈمی کے روحِ رواں ڈاکٹر اسماعیل قریشی نے شال پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا گیا۔ رسم شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔









