نئی دہلی 19جولائی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے نے مودی حکومت کی ’میک ان انڈیا‘ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں بننے والے زیادہ تر موبائل اور ٹی وی سیٹ دراصل مکمل طور پر چینی پرزوں پر انحصار کرتے ہیں اور مقامی طور پر صرف ان کی اسمبلنگ کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی صنعت خود انحصاری کے دعوؤں کے باوجود آج بھی چین پر اس حد تک منحصر ہے کہ اگر چینی کمپنیاں چاہیں تو دو منٹ میں ہندوستان کی الیکٹرانکس انڈسٹری کو مفلوج کر سکتی ہیں۔راہل گاندھی نے حال ہی میں ایک فیکٹری کا دورہ کیا، جس کی ویڈیو انہوں نے یوٹیوب پر جاری کی ہے۔ ویڈیو میں وہ ایک ٹی وی اسمبلنگ یونٹ کا جائزہ لیتے نظر آتے ہیں۔ فیکٹری کے کارکن انہیں بتاتے ہیں کہ ڈسپلے، مدر بورڈ، ایل ای ڈی لائٹس، بیک لائٹ فلم اور یہاں تک کہ پروگرامنگ سافٹ ویئر بھی چین سے آتے ہیں۔ صرف بیرونی ڈبہ یا پلاسٹک کی کیبنٹ ہندوستان میں بنتی ہے، وہ بھی محدود پیمانے پر۔ راہل نے سوال کیا، ’الیکٹرانکس میں ہندوستانی کیا ہے؟‘ اور خود ہی جواب دیا، ’صرف پلاسٹک!‘انہوں نے کہا کہ ہم صرف چینی پرزے جوڑ رہے ہیں اور اسی کو ’میک ان انڈیا‘ کا نام دے رہے ہیں۔ اصل مینوفیکچرنگ کہیں اور ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میک ان انڈیا‘ دراصل ’اسمبل اِن انڈیا‘ ہے۔
راہل نے کہا کہ چین کی اجارہ داری صرف ٹی وی تک محدود نہیں بلکہ موبائل فون، لیپ ٹاپ، اور یہاں تک کہ سولر سیلز تک پھیلی ہوئی ہے۔ ایپل جیسی عالمی کمپنیاں بھی ڈسپلے اور سیمی کنڈکٹرز چین میں بنواتی ہیں اور ہندوستان میں صرف اسمبلنگ ہوتی ہے۔فیکٹری کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان کی فیکٹری میں روزانہ تقریباً 2500 ٹی وی سیٹس بنائے جاتے ہیں لیکن منافع سنگل ڈیجٹ تک محدود ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ حکومت کی طرف سے مقامی صنعت کو درکار تعاون نہیں دیا جا رہا۔ سیمی کنڈکٹر فیکٹری لگانے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے 10 کروڑ روپے کی سی جی ٹی ایم ایس ای اسکیم ہی دی جا رہی ہے جو غیر مؤثر ہے۔









