بھوپال :20؍جون (راجیندر شکلا) بھارت کی قدیم ثقافتی روایت نے ہمیشہ دنیا کو زندگی گزارنے کی سمت دکھائی ہے۔ سودھیو کٹمبکم” کا جذبہ صرف ایک فلسفہ نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کا راستہ ہے۔ اسی روایت کا ایک انمول تحفہ یوگ ہے۔ آج یوگ صرف بھارت تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا میں صحت مند، متوازن اور پْرامن زندگی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
محترم وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے 21 جون کو “بین الاقوامی یومِ یوگ” کے طور پر تسلیم کیا جانا بھارت کی ثقافتی طاقت اور روحانی ورثے کی عالمی قبولیت کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک دن کی رسمی تقریب نہیں بلکہ انسانیت کو بہتر مستقبل فراہم کرنے کی عالمی مہم ہے۔ مسٹر مودی نے یوگ کو عوام الناس تک پہنچا کر اسے جدید طرزِ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ آج دنیا بھر کے کروڑوں لوگ صحت، ذہنی توازن اور روحانی سکون کے لیے یوگ اپنا رہے ہیں۔
یوگ صرف ورزش نہیں بلکہ زندگی کا جامع علم ہے
آج جب دنیا موسمیاتی تبدیلی، غیر متوازن طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ اور بڑھتی ہوئی بیماریوں جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے تو یوگ صرف ورزش نہیں بلکہ زندگی کے ایک جامع علم کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یوگ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف استعمال اور مصرف کا نام نہیں ہے۔ مستقبل صرف وسائل کے استحصال سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔ پائیدار ترقی کا مطلب ہے وسائل کا محتاط، حساس اور دانشمندانہ استعمال۔
فطرت کا احترام اور جسم کا احترام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جس طرح فطرت کے توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اسی طرح اپنے جسم اور ذہن کے توازن کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یوگ ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسٹر مودی کی جانب سے دیے گئے “لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ (LiFE)” کے پیغام اور یوگ کا فلسفہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ LiFE ہمیں ذمہ دارانہ طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دیتا ہے اور یوگ اس طرزِ زندگی کو عملی شکل دینے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
انسانیت کا مستقبل زیادہ استعمال میں نہیں بلکہ متوازن اور باخبر زندگی میں پوشیدہ ہے
آج دنیا میں وسائل کے لیے مسابقت بڑھ رہی ہے، لیکن انسانیت کا مستقبل صرف زیادہ استعمال میں نہیں بلکہ متوازن اور باخبر زندگی میں پوشیدہ ہے۔ یوگ ہمیں اندر سے منظم اور بااصول بناتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خوشی صرف مادی کامیابیوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ ذہنی توازن اور روحانی سکون سے حاصل ہوتی ہے۔ مسٹر مودی کی جانب سے دیے گئے “پنچ پرن” کے عہد میں ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر، غلامی کی ذہنیت سے نجات، ورثے پر فخر، اتحاد اور شہری فرائض کا احساس شامل ہیں، اور ان سب کی بنیاد صحت مند اور باشعور شہری ہی ہو سکتے ہیں۔ یوگ اس سمت میں سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جب فرد جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہوگا تبھی وہ قوم کی تعمیر میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکے گا۔
“فٹ انڈیا موومنٹ” بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ صحت مند بھارت ہی مضبوط بھارت بن سکتا ہے۔ آج صحت کا مطلب صرف اسپتال اور علاج نہیں رہ گیا ہے۔ جدید طبی نظام کا مرکز اب “احتیاطی صحت نگہداشت” یعنی بیماریوں کی روک تھام بنتا جا رہا ہے۔ اگر ہم اپنی طرزِ زندگی کو متوازن رکھیں، باقاعدگی سے یوگ کریں، ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھیں اور فطرت کے مطابق زندگی گزاریں تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں حکومت صحت کی خدمات کو صرف علاج تک محدود نہیں رکھ رہی بلکہ لوگوں کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔ یوگ، آیوش، غذائیت، ذہنی صحت اور عوامی بیداری کو ہم اپنی صحت پالیسی کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ شہری طویل عمر کے ساتھ صحت مند، فعال اور باوقار زندگی گزاریں۔
آج دنیا کے سامنے ایک بڑا چیلنج “ذہنی صحت” بھی ہے۔ جدید زندگی میں مادی سہولیات تو بڑھ گئی ہیں لیکن ذہنی سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر طرف دباؤ، مقابلہ، عدم تحفظ اور بے توازنی نظر آتی ہے۔ ایسے وقت میں یوگ ہمیں اپنے باطن سے جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوگ صرف جسم کو صحت مند اور مضبوط بنانے کی مشق نہیں بلکہ یہ ذہن، عقل اور روح کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا عمل ہے۔
جب انسان اپنے اندر سے مستحکم ہوتا ہے تبھی وہ معاشرے اور فطرت کے لیے حساس بنتا ہے۔ یوگ ہمیں ردِعمل نہیں بلکہ متوازن نقط? نظر سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بیرونی انتشار کے درمیان بھی اندرونی سکون تلاش کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یوگ کی ضرورت صرف بھارت کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں بھی یوگ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، غیر متوازن خوراک، غیر فعال طرزِ زندگی اور ذہنی دباؤ انسانی جسم کی قوتِ مدافعت کو متاثر کر رہے ہیں۔ یوگ جسم کی قدرتی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ انسان کو جسمانی طور پر توانا، ذہنی طور پر متوازن اور جذباتی طور پر مستحکم بناتا ہے۔
صحت مند انسانی وسائل کسی بھی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ صرف معاشی وسائل کسی ملک کو عظیم نہیں بناتے۔ اگر شہری صحت مند، باشعور، منظم اور مثبت ہوں گے تبھی قوم طویل المدتی ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکے گی۔ اس لیے یوگ صرف ایک ذاتی مشق نہیں بلکہ قوم کی تعمیر کا بھی ذریعہ ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یوگ کو صرف ایک دن تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ بچوں سے لے کر نوجوانوں اور بزرگ شہریوں تک ہر عمر کے لوگوں کے لیے یوگ مفید ہے۔ خصوصاً بزرگوں کی صحت اور جیریاٹرک کیئر کے تناظر میں یوگ کا کردار نہایت اہم ہے۔ صحت مند اور پْرسکون بڑھاپا صرف علاج سے نہیں بلکہ متوازن طرزِ زندگی سے ممکن ہے۔ یوگ بزرگ شہریوں کو فعال، خودمختار اور ذہنی طور پر مثبت رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
بھارت نے ہمیشہ دنیا کو صرف نظریات نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا راستہ دیا ہے۔ یوگ اسی راستے کی روشنی ہے۔ یہ جسم، ذہن، معاشرے اور فطرت کے درمیان توازن قائم کرنے کا عمل ہے۔ اگر انسانیت کو صحت مند، پْرامن اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھنا ہے تو یوگ کو زندگی کا حصہ بنانا ہی ہوگا۔آئیے، ہم سب یوگ کو صرف ایک مشق نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات کے طور پر اپنائیں اور صحت مند انسانیت، متوازن فطرت اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
(رائٹر مدھیہ پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ ہیں)








