نئی دہلی 7اگست: جنتر منتر پر احتجاج کو لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ ایسی ہی ایک عرضی کی سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے حکومت سے سیدھا سوال کیا۔ عدالت نے پوچھا، “اگر جنتر منتر پر مسلسل احتجاج قومی راجدھانی میں معمول کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے، تو آپ اسے بند کیوں نہیں کر دیتے؟” دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو دارالحکومت کے مرکزی احتجاجی مقام جنتر منتر پر جاری احتجاج کو لے کر مرکزی حکومت سے اہم سوالات پوچھے۔ عدالت نے کہا کہ اگر مسلسل مظاہروں سے دہلی کے روزمرہ کے معمولات میں خلل پڑ رہا ہے تو حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ کیا جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر جاری رکھنا چاہئے۔ سماعت کے دوران جسٹس امت مہاجن نے ریمارکس دیے کہ جمہوری احتجاج شہریوں کا حق ہے، لیکن ان سے پورے دارالحکومت کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “کیوں نہیں اسے (جنتر منتر) کو بند کر دیا جائے؟ میری رائے میں، شہر کے اندر ایسی صورت حال پیدا نہیں ہونی چاہیے، تاہم، یہ فیصلہ حکومت پر منحصر ہے، آخر پورے شہر کو کیوں وغیر ضروری طور پر یرغمال بنایا جائے؟”
عدالت کے یہ تبصرے جنتر منتر پر NEET پیپر لیک ہونے پر حالیہ وسیع پیمانے پر طلباء کے احتجاج کے پس منظر میں آئے ہیں۔ یہ احتجاج کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں کیا گیا تھا۔ 20 جولائی کو، مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد سیکورٹی فورسز کے ساتھ طلباء کی جھڑپ ہوئی تھی ۔ صورتحال بگڑتے ہی دہلی پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کے بعد یہ احتجاج دہلی سے نکل کر دیگر ریاستوں میں پھیل گیا۔ سیکورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے، دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے احتیاطی اقدام کے طور پر وسطی دہلی کے کئی میٹرو اسٹیشنوں کو عارضی طور پر بند کر دیا، جب کہ کئی دیگر اسٹیشنوں پر داخلے اور خارجی راستوں کو کنٹرول کیا گیا۔ اس سے بڑی تعداد میں مسافروں کو تکلیف ہوئی اور دارالحکومت میں عام ٹریفک میں خلل پڑا۔









