چنئی 7اگست: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کی اہلیہ سنگیتا نے طلاق کی عرضی واپس لے لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ مقدمہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ سنگیتا نے جمعہ کے روز چینگل پٹو کے قریب واقع فیملی کورٹ میں دائر اپنی طلاق کی عرضی واپس لے لی۔ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں۔ سماعت کے دوران انہوں نے اپنی عرضی پر مزید کارروائی نہ کرنے کی وجوہات سامنے رکھیں۔ اس کے بعد عدالت نے ان کی عرضی کو واپس لیا ہوا تسلیم کرتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا۔ یہ معلومات عدالت کے سرکاری ذرائع نے دی ہیں۔ سنگیتا نے اپنی پہلے دائر کی گئی عرضی میں شوہر وجے پر ایک اداکارہ کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں مسلسل ذہنی اذیت، نظر انداز کیے جانے اور علیحدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ عرضی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداکارہ کو اس مقدمے میں دوسرے فریق کے طور پر بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ سنگیتا نے ’خصوصی شادی ایکٹ، 1954‘ کے تحت طلاق کی درخواست دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ازدواجی رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے اور اب اس کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وجے نے 25 اگست 1999 کو سنگیتا سورنالنگم سے شادی کی تھی۔ سنگیتا کا تعلق سری لنکن تمل خاندان سے ہے اور شادی سے پہلے وہ وجے کی مداح تھیں۔ دونوں کی ملاقات کے بعد ان کا رشتہ آگے بڑھا اور بات شادی تک جا پہنچی۔ شادی کے بعد سنگیتا کئی برسوں تک وجے کے ساتھ عوامی تقریبات میں نظر آتی رہیں اور ان کی خاندانی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہیں۔ شادی کے بعد ان کے 2 بچے پیدا ہوئے۔ انھوں نے بیٹے کا نام جیسن سنجے اور بیٹی کا نام دیویا ساشا رکھا۔ جیسن سنجے فلم پروڈکشن میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ دیویا ساشا بھی بعض مواقع پر اپنے والد کے ساتھ نظر آ چکی ہیں۔









