بھوپال:16؍اگست:راجا بھوج ملٹی کلاس نیشنل سیلنگ چیمپئن شپ (قومی رینکنگ) کے تیسرے ایڈیشن کا اتوار کو بھوپال کے بڑے تالاب میں واقع واٹر اسپورٹس سینٹر (بوٹ کلب) میں اختتام ہوا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے چیمپئن شپ کی فاتح اور رنر اَپ ٹیموں کو انعامات سے نوازا اور مختلف زمروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مدھیہ پردیش کے باصلاحیت کھلاڑیوں اور کوچز کو بھی اعزاز سے نوازا۔ اس قومی رینکنگ مقابلے میں بھوپال کی سیلنگ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپئن شپ اپنے نام کی اور سب کی تعریف حاصل کی۔ گوا کی سیلنگ ٹیم رنر اَپ رہی، جبکہ سکندرآباد کی سیلنگ ٹیم نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس موقع پر کھیل و نوجوان بہبود اور کوآپریٹو کے وزیر **مسٹر وشواس کیلاش سارنگ** بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بوٹ کلب احاطے سے سیلنگ ٹیموں کی استعمال ہونے والی کشتیوں کا معائنہ بھی کیا۔
کھلاڑیوں اور کوچز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ **کھیل ہماری شناخت ہیں۔** گزشتہ چند برسوں سے بھوپال میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بھوپال میں 18 اہم کھیلوں میں سے 11 کھیلوں کی اکیڈمیاں چل رہی ہیں۔ قومی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے بعد اب ہم بین الاقوامی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت بھوپال کو کھیلوں کا دارالحکومت بنانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم نے ہر سال محکمہ کھیل کا بجٹ بڑھایا ہے۔ ہماری حکومت ریاست کے تمام 230 اسمبلی حلقوں میں ایک ایک اسٹیڈیم تعمیر کرکے کھلاڑیوں کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کھیلوں میں ہماری کارکردگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ کبھی 17ویں مقام پر رہنے والا مدھیہ پردیش آج اپنی بہتر کارکردگی کی بدولت اس معاملے میں پورے ملک میں تیسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک کھیلوں کی دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ سال 2030 میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی بھارت کو مل چکی ہے۔ ہم سال 2036 میں ہونے والے اولمپک گیمز کی میزبانی کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں اور کوچز سمیت کھیلوں کے تمام شعبوں کی یکساں ترقی کے لیے ریاست میں تمام ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی جھیلوں کی لہروں پر ملک کے بہترین سیلنگ کھلاڑیوں کا ہنر دکھائی دینا ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ ہمارا مقصد صرف مقابلوں کا انعقاد کرنا نہیں ہے، بلکہ ہم ریاست کی کھیلوں کی صلاحیتوں کو قومی رینکنگ سے آگے بین الاقوامی پلیٹ فارم تک پہنچانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ بھوپال کی جھیلیں اب واٹر اسپورٹس میں مہارت حاصل کرنے کے خواہش مند کھلاڑیوں کے خوابوں کو نئی پرواز دینے کا ایک بڑا ذریعہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجا بھوج ملٹی کلاس نیشنل سیلنگ چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد سے بھوپال کی شناخت ملک کے اہم **واٹر اسپورٹس مراکز** میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔
وزیرکھیل و نوجوان بہبود مسٹروشواس سارنگ نے کہا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی دلچسپی قابل تعریف ہے۔ وزیراعلیٰ کی رہنمائی میں ہم بھوپال میں ایک کھیلوں کا میوزیم بھی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال کی بڑی جھیل میں مختلف واٹر اسپورٹس مقابلوں کے ساتھ ساتھ اب شکارے بھی چل رہے ہیں۔
ہماری حکومت کھیل اور سیاحت کی مجموعی ترقی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے کھلاڑی اب ملک اور دنیا کے مقابلوں میں تمغے جیت کر ریاست کا نام روشن کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو اور کھیلوں کے وزیر مسٹر سارنگ نے چیمپئن شپ کی فاتح بھوپال ٹیم اور رنر اَپ گوا کی ٹیم کو انعامات سے نوازا۔ وزیراعلیٰ نے فاتح ٹیم کے کھلاڑیوںواسو چندرونشی، ماہی ورما، تلسی پٹلے، ایکلویہ باتھم، ونشیکا سکرور، ایان پاٹیدار، پرارتھنا بھوئی، انکت سسودیا، سمر پنچیشور اور سدھی ٹنڈن سمیت ٹیم کے تمام کوچز مسٹر جی ایل یادو، مسٹر رام ملن، مسٹر نریندر ایس راجپوت اور مسٹر انیل شرما کو اسٹیج سے انعامات دیے۔ اس موقع پر گلاسگو میں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والیکامن ویلتھ گیمز 2026 میں حصہ لینے والے مدھیہ پردیش کے کامیاب کھلاڑیوں کماری یامنی موریہ (جوڈو، چاندی کا تمغہ)، مسٹر سمر دیپ سنگھ گل (ایتھلیٹکس، مردوں کا شاٹ پٹ، ساتویں پوزیشن)، مسٹر دیوکمار مینا (ایتھلیٹکس، مردوں کا پول والٹ، چوتھی پوزیشن) اور مسٹر کلدیپ کمار (ایتھلیٹکس، مردوں کا پول والٹ، چھٹی پوزیشن) کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
اسی طرح سینئر کامن ویلتھ فینسنگ چیمپئن شپ 2026 میں بھارتی خواتین کی ایپی ٹیم کو طلائی تمغہ اور ایپی انفرادی مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والی کھلاڑی کماری خوشی دابھاڑے کو بھی اعزاز دیا گیا۔وزیراعلیٰ نے 16ویں ہاکی انڈیا جونیئر چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والی ہاکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوںمسٹر کرن گوتم، مسٹر آیوش رجک، مسٹر سہیل علی، مسٹر آنند یادو، مسٹر لو، مسٹر وشویش سنگھ ٹھاکر، مسٹر اشیر عادل، مسٹر راج ویر، مسٹر ہرش، مسٹر شبان، مسٹر نوین ایکا اور مسٹر توحید کو بھی اعزاز سے نوازا۔اس موقع پر کھیلوں کے سیکریٹری مسٹر سنجیو سنگھ، میجر جنرل مسٹر ٹی ایس اے نارائنن،مسٹر اجے شریواستو، مسٹر امیت شریواستو، وکرم ایوارڈ یافتہکماری ایکتا یادو سمیت وائی اے آئی کے عہدیداران اور سیلنگ چیمپئن شپ میں حصہ لینے والے کھلاڑی موجود تھے۔ مشترکہ ڈائریکٹر کھیل **مسٹر بی ایس یادو** نے اظہار تشکر کیا۔
قابل ذکر ہے کہ 11 سے 16 اگست تک منعقد ہونے والے اس مقابلے میں ملک کے 12 سیلنگ کلبوں نے حصہ لیا۔ نیشنل سیلنگ اسکول بھوپال کی ٹیم نے 20 تمغے حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔نیوی یوتھ اسپورٹس کمپنی، گوا کی ٹیم دوسرے اورسکندرآباد سیلنگ کلب، سکندرآباد کی ٹیم تیسرے مقام پر رہی۔ چیمپئن شپ میں تمام 12 سیلنگ کلبوں کے مجموعی طور پر 87 سیلرز (کھلاڑیوں)نے حصہ لیا۔ بھوپال کی اپر لیک پر کھلاڑیوں نے مہارت، توازن اور مسابقتی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ قدرتی جھیلوں کی وجہ سے بھوپال سیلنگ، روئنگ، کائیکنگ اور کینوئنگ جیسے واٹر اسپورٹس کے لیے موزوں ہے۔ سال 2007 میں قائم ہونے والی مدھیہ پردیش اسٹیٹ واٹر اسپورٹس اکیڈمی میں سیلنگ سمیت مختلف آبی کھیلوں کی تربیتی سہولیات دستیاب ہیں۔ اکیڈمی کے کھلاڑی اب تک کئیبین الاقوامی اور قومی تمغے حاصل کر چکے ہیں اور مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔