پٹنہ 16اگست: آر جے ڈی رہنما اور بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے ریاست میں بگڑتی ہوئی قانون و انتظام کی صورت حال اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کو لے کر اتوار کو این ڈی اے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار اب ایگزام پیپر لیک کی راجدھانی بنتا جا رہا ہے اور ریاست میں نظم و نسق پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات سمیت مختلف مسابقتی امتحانات بھی بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے افشا سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق امتحانات میں شفافیت کے فقدان سے طلبہ اور نوجوانوں کا نظام پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی رہنما نے طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب طلبہ سوالیہ پرچے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کے ساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے اور ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف اے کے-47 رائفل کا بھی استعمال کیا گیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن میں شامل جماعتیں سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اے کے-47 کے استعمال کے معاملے کو لے کر 19 اگست کو پٹنہ میں واقع لوک بھون تک مارچ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کے رہنما سیوان کے واقعے کے سلسلے میں گورنر کو ایک یادداشت بھی پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں اے کے-47 استعمال کرنے والے ایک سپاہی کو معطل کرنا کافی نہیں ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ اس افسر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف اے کے-47 کے استعمال کا حکم دیا تھا۔