رائسین:25؍مارچ:(پریس ریلیز) ضلع رائسین کی غیرت گنج تحصیل کی گرام پنچایت گڑھی آج بھی ترقیاتی کاموں سے محروم نظر آتی ہے۔ تقریباً 8 ہزار آبادی پر مشتمل یہ بڑی پنچایت بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مقامی عوام اور عوامی نمائندوں میں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔
بنیادی سہولیات کا فقدان، منصوبے صرف کاغذوں تک محدود:
مقامی افراد کے مطابق گاؤں میں پینے کے پانی کا شدید بحران ہے۔ “جل جیون مشن” جیسی اہم اسکیم اب تک شروع نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث لوگوں کو پانی کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تقریباً 8 کروڑ روپے کی لاگت سے 3 لاکھ لیٹر پانی کی ٹنکی اور 10 کلومیٹر طویل پائپ لائن کا منصوبہ بنایا گیا تھا، مگر دو سال گزرنے کے باوجود کام شروع نہیں ہوا۔
تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی گڑھی پیچھے ہے۔ یہاں سی ایم رائز اسکول، پی ایم شری اسکول اور ذیلی ویٹرنری اسپتال جیسی سہولیات اب تک منظور نہیں ہو سکی ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالت بھی آمد و رفت میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ترقیاتی کاموں کی طویل فہرست، مگر عمل ندارد:
گاؤں میں ڈیم تعمیر، سڑکوں کی تعمیر، پارک، ہاٹ بازار، مسافروں کے انتظار گاہ، کھیل میدان، لائبریری، جم، کمیونٹی ہال، شانتی دھام، قبرستان کی باؤنڈری وال اور پلوں کی تعمیر جیسے کئی اہم مطالبات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعدد بار حکام کو درخواستیں دی گئیں، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔
تاریخی اہمیت کے باوجود نظرانداز:
گڑھی کا ماضی نہایت شاندار رہا ہے۔ بزرگوں کے مطابق یہاں ایک وقت میں تحصیل، عدالت اور تھانہ جیسے اہم دفاتر قائم تھے، جو 1908 میں غیرت گنج منتقل ہو گئے۔ اس کے بعد گڑھی کی اہمیت بتدریج کم ہوتی گئی۔ 1954 کا محکمہ جنگلات کا ریسٹ ہاؤس آج بھی یہاں موجود ہے، جو اس علاقے کی شناخت کی علامت ہے۔
آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار:
گڑھی نے 1857 کی جنگِ آزادی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ نواب فاضل محمد خان اور ان کے بھائی نواب عادل محمد خان نے رانی لکشمی بائی کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف بہادری سے جنگ لڑی۔ 31 جنوری 1858 کو انگریزوں نے راحت گڑھ میں نواب فاضل محمد خان کو پھانسی دے دی۔ آج بھی ان شخصیات کو قربانی اور حب الوطنی کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مذہبی اہمیت مگر سہولیات کا فقدان:
گڑھی مذہبی اعتبار سے بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ گھنے جنگلات میں واقع قدیم مہاولی کھو مندر عقیدت مندوں کا مرکز ہے، جہاں مہاشیو راتری پر سات روزہ میلہ لگتا ہے۔ اسی طرح قلعے کے قریب حضرت پیر پیتم شاہ ولیؒ کی درگاہ پر ہر سال عرس میں بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔ تاہم ان مقامات تک پہنچنے کے لیے سڑک جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔
روزگار کے محدود ذرائع:
گاؤں کی تقریباً 40 فیصد آبادی زراعت اور تجارت سے وابستہ ہے، جبکہ 60 فیصد افراد بیڑی سازی اور مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔ کبھی یہاں کا مشہور بنگلہ پان بیرونِ ملک تک جاتا تھا، مگر پانی اور وسائل کی کمی کے باعث یہ کاروبار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال:
گڑھی ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے، جہاں دونوں برادریوں کے درمیان بھائی چارہ اور ہم آہنگی قابلِ ذکر ہے۔
عوامی نمائندوں کی آواز:
گرام پنچایت گڑھی کے سرپنچ سید مسعود علی پٹیل سمیت متعدد عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان، پنچایت و دیہی ترقی کے وزیر پرہلاد سنگھ پٹیل، مقامی ایم ایل اے ڈاکٹر پربھورام چودھری اور ضلع پنچایت صدر یشونت مینا سے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ التوا ترقیاتی کاموں کو جلد منظور کیا جائے۔
فوری منظوری کا مطالبہ:
مقامی سرپنچ سید مسعود علی پٹیل اور دیہاتیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گڑھی کے ترقیاتی منصوبوں کو فوری منظوری دے کر کام جلد شروع کیا جائے، تاکہ اس علاقے کو اس کی تاریخی اور سماجی اہمیت کے مطابق ترقی مل سکے۔