واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران پہلے سے طے شدہ امریکی شرائط قبول کر لیتا ہے تو جاری کشیدگی اور فوجی تصادم کا خاتمہ ممکن ہے لیکن انکار کی صورت میں ایران کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جائے گی اور امریکی دباؤ کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ اگر ایران مجوزہ شرائط کو مان لیتا ہے تو ’ایپک فیوری‘ نامی فوجی کارروائی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی رہے گی، جس میں ایران بھی شامل ہوگا۔ امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران نے معاہدے سے انکار کیا تو بڑے پیمانے پر بمباری دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی مہم کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو امریکی نگرانی میں محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام عالمی بحری سلامتی اور انسانی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ ’ایپک فیوری‘ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد ختم کر دی گئی ہے اور امریکہ اب مزید کشیدگی نہیں چاہتا۔ ان کے مطابق واشنگٹن خطے میں استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ ’ایپک فیوری‘ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کا نام تھا، جس کے دوران تہران کے جوہری مراکز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی 28 فروری 2026 سے جاری تھی اور امریکہ نے اب اسے کامیاب قرار دیتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں ’جارحانہ دھمکیوں‘ کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
اور اب آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت محفوظ اور مستحکم رہے گی۔ ایرانی حکام نے ان جہازوں کے مالکان اور کپتانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایران کے نئے ضابطوں پر عمل کیا۔
ADVERTISEMENT
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ ایسے جہاز جو امریکی افواج کے لیے اسلحہ یا گولہ بارود لے کر جائیں گے، انہیں روکا جا سکتا ہے۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ’بے قصور‘ تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی بازار اور بین الاقوامی بحری سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









