نئی دہلی 6مئی: مغربی بنگال اور آسام کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی حیرت انگیز فتح کے بعد ایک بار پھر اپوزیشن پارٹیوں نے ’ووٹ چوری‘ کا ایشو زوردار انداز میں اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ کانگریس نے تو مغربی بنگال کے انتخابی نتیجہ کے بعد ’ابکی بار لوک تنتر کا اَنتم سنسکار‘ (اس بار جمہوریت کی آخری رسومات ادا) جملہ کہہ کر بی جے پی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن پر بھی شدید حملہ کیا ہے۔ یہ جملہ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ پون کھیڑا نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا ملک ایک خوفناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں جمہوریت کو اغوا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہمارے لیڈر راہلگ اندھی نے ایک خصوصی پریس کانفرنس کی تھی، جس میں انھوں نے ملک کی الگ الگ ریاستوں میں کی جا رہی ’ووٹ چوری‘ کے بارے میں بتایا تھا۔ ان میں ہریانہ، مہاراشٹر، کرناٹک کی مثال دی گئی تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ووٹ چوری، ایس آئی آر اور حد بندی کو اسلحہ بنا کر جمہوریت کو قبضے میں لیا جا رہا ہے۔ یہ سہ طرفہ حملہ ہے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جب 2024 میں لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کو جھٹکا لگا، تب انتخابی سسٹم کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ ہم پر کئی بار سوال اٹھائے جاتے ہیں، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ انھوں نے جہاں جہاں کیچڑ پھیلایا ہے، وہاں کمل اُگ گیا۔ یہ نریندر مودی اور بی جے پی کا پیٹرن ہے۔ اگر ملک نے اس پر توجہ نہیں دی تو یہ کیچڑ ہر طرف پھیلے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ملک میں ’ووٹ چوری‘ کا کیچڑ پھیلایا جا رہا ہے۔ اس کیچڑ کو پھیلنے سے روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن ہیٹ اسپیچ اور شکایتوں پر نوٹس لینے کی جگہ خود اس کیچڑ میں لوٹ گیا اور جمہوریت کو داغدار بنا دیا۔‘‘