سر سید احمد خان برصغیر کے اُن عظیم معماروں میں سے ہیں جنہوں نے ایک زوال پذیر قوم کو نہ صرف جگایا بلکہ اسے علم، شعور اور خود اعتمادی کی نئی راہ دکھائی۔ وہ محض ایک مصلح یا معلم نہیں تھے بلکہ ایک ایسی تحریک کے بانی تھے جس نے مسلمانوں کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھی۔ ہر سال 17 اکتوبر کو ان کی پیدائش کی تقریبات بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہیں، علیگ برادری اپنے اسلاف پر فخر کا اظہار کرتی ہے، سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے سر سید کے مشن کو بھی اسی سنجیدگی سے اپنایا ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ جس طرح یومِ پیدائش پر علیگ برادری ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتی ہے، اسی طرح یومِ وفات کے موقع پر بھی اجتماعی طور پر ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا جائے اور اس سے بڑھ کر ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ آج کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ سر سید کو صرف یاد نہ کیا جائے بلکہ ان کی تعلیمی افکار/ تعلیمی تحریک کو زندہ رکھا جائے۔کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے تمام طبقات کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ لیکن جب کسی مخصوص طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ سماجی، تعلیمی اور اقتصادی میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خاص طور پر مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو گزشتہ چند برسوں میں مختلف شعبوں میں درپیش چیلنجز نے ان کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔
مسلمانوں کی پسماندگی کا سب سے بڑا سبب تعلیمی عدم مساوات ہے۔ یہ کہنا کہ مسلمان تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتے، حقیقت کے برعکس ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ معیاری تعلیمی اداروں کی کمی، سرکاری اسکولوں کی ابتر حالت اور معاشی دشواریوں کے باعث ان کے لیے تعلیم کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ روزگار کے میدان میں بھی انہیں خاطر خواہ مواقع میسر نہیں، جس کی وجہ سے مالی استحکام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ اور سہولیات کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔سیاسی میدان میں کمزور نمائندگی نے بھی ان کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پالیسی سازی میں مناسب حصہ داری نہ ہونے کے باعث ان کے مسائل اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ایک طبقے کی جانب سے مسلمانوں کی منفی تصویر کشی نے معاشرے میں غلط فہمیاں اور تعصبات کو جنم دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کے حقوق اور مواقع پر پڑ رہا ہے۔
اگر ہم تاریخ کے دریچوں سے جھانکیں تو معلوم ہوگا کہ سر سید احمد خان نے کس طرح اپنی پوری زندگی قوم کی تعلیمی اور سماجی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ تحریک دراصل ایک ذہنی انقلاب تھا، جس نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا اور انہیں نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسا وژن رکھتے تھے جس میں علم، تحقیق اور وسعتِ نظر بنیادی ستون تھے۔مگر افسوس کہ ہم نے سر سید کو محض تقریبات اور نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ کیا ہم نے کبھی ان کے یومِ وفات (27 مارچ) کو اسی عقیدت اور سنجیدگی سے منانے کی کوشش کی جس طرح یومِ پیدائش کو مناتے ہیں؟ یہ موقع محض تعزیتی الفاظ کا نہیں بلکہ احتساب اور عزمِ نو کا ہونا چاہیے۔یہ سوچنے کا کہ ہم نے سر سید کے مشن کے ساتھ کتنا انصاف کیا ہے اور آئندہ کیا کرنا ہے اور ان کے تعلیمی مشن کو کیسے آگے بڑھایا جائے ۔ آج بھی ہم تعلیمی میدان میں بہت ہی پیچھے ہیں اسلئے ان کے افکار، مشن اور تحریک کو آگے بڑھانا ہمارا اولین فریضہ ہے۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، عالمی سطح پر ایران جیسے خطوں میں کشیدگی، ملک کے اندر بعض فلموں اور بیانیوں کے ذریعے مخصوص طبقوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں، اور عدلیہ و دیگر اداروں کے حوالے سے اٹھتے سوالات ایک سنجیدہ فکر کے متقاضی ہیں۔ ایسے ماحول میں سر سید کی اعتدال پسند، علمی اور حقیقت پسندانہ سوچ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مزید یہ کہ زبان و ثقافت کے میدان میں بھی چیلنجز کم نہیں ہیں۔ اردو، عربی اور فارسی جیسی زبانوں کے فروغ کے لیے قائم ادارے مالی بحران کا شکار ہیں، اساتذہ کی تقرریاں نہ کے برابر ہیں اور کئی ادارے بند ہونے کے دہانے پر ہیں بلکہ بند ہو چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف تہذیبی نقصان کا باعث ہے بلکہ تعلیمی پسماندگی کو بھی بڑھا رہی ہے۔ایسے حالات میں علیگ برادری کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سر سید کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانا، نئے تعلیمی ادارے قائم کرنا، نوجوانوں کو جدید علوم اور ہنر سے آراستہ کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ہمیں صرف حکومتوں سے شکوہ کرنے کے بجائے خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔
سر سید کی زندگی کا خلاصہ یہی تھا کہ قوم کو تعلیم یافتہ، خود کفیل اور باوقار بنایا جائے۔ آج ان کے یومِ وفات کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم تعلیم، تجارت، ہنر اور باہمی تعاون کے میدان میں سنجیدہ کوششیں کریں گے۔ ہر صوبے میں علی گڑھ طرز کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے، تاکہ علم کا چراغ ہر گھر تک پہنچ سکے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سر سید احمد خان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ ہم ان کے مشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ تعلیم کو عام کریں، شعور کو بیدار کریں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں جو علم، انصاف اور مساوات پر قائم ہواور اس کے لئے ضروری ہے کہ سر سید کے افکار، مشن اور تحریک کو آگے بڑھایا جائے بلکہ پوری قوت و طاقت کے ساتھ یہ کام کیا جائے جس سے قوم کا کھویا ہوا وقار حاصل ہو۔ یہی سر سید کے خواب کی تعبیر ہے اور یہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی۔









