جگدل پور، 3 اپریل (یو این آئی) عبدالفتح زیادہ تر راتیں سمندر میں گزارتے ہیں، جہاں وہ ماہی گیر کے طور پر اپنے کی گزر بسر میں مدد کرتے ہیں۔ جیسے ہی صبح ہوتی ہے، وہ سیدھے ٹریننگ گراؤنڈ کی طرف نکل پڑتے ہیں ۔ایک منفرد خواب کا پیچھا کرتے ہوئے انہوں نے لکشدیپ کو ‘کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 2026 میں پہلا تمغہ دلایا۔کَورتّی اور کدمت جزیروں کے درمیان واقع، دور دراز کے امینی جزیرے (جو تقریباً 2.7 کلومیٹر طویل اور 1.2 کلومیٹر چوڑا ہے، اور جس کا کل رقبہ 2.60 مربع کلومیٹر ہے) کے 18 سالہ لانگ جمپر عبدالفتح نے جگدل پور کے کریڑا کمپلیکس میدان میں 7.03 میٹر کی اپنے کیریئر کی بہترین چھلانگ لگا کر طلائی تمغہ جیتا۔ یہ اس چھوٹی سی مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا۔مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کھیل افسر احمد جاوید حسن نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “وہ لکشدیپ کے پہلے ایسے ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے 7 میٹر کا فاصلہ عبور کیا ہے اور یہ واقعی ایک خاص بات ہے۔ماہی گیر خاندان میں پیدا ہوئے فتح بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور گھر کی بڑی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ 12ویں جماعت مکمل کرنے کے بعد، معاشی تنگدستی کی وجہ سے انہیں اپنی پڑھائی بیچ میں ہی روکنی پڑی۔ اس کے بجائے، انہوں نے اپنے والد کے خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹانے اور کھیل کو اپنے جنون کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا۔فتح نے کہا کہ کوئی اور چارہ نہیں ہے، آپ کو چیزوں میں توازن بنانا ہی پڑتا ہے۔ جب میں اسکول میں تھا، تبھی سے میں اپنے والد کے ماہی گیری کے کام میں مدد کرتا آرہا ہوں۔ یہی ہماری آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ ہمارے خاندان میں چھ لوگ ہیں۔ صبح میں اپنی ٹریننگ کے لیے جاتا ہوں؛ میرے خاندان کو اس بارے میں معلوم ہے، بھلے ہی وہ اس کھیل کے بارے میں بہت کم سمجھتے ہوں۔









