بھوپال:04؍مئی:گورنر مسٹر منگوبھائی پٹیل نے کہا ہے کہ معاشرے کی خدمت ہی میں زندگی کی اصل معنویت ہے۔ سماجی خدمت کے ذریعے محروم طبقے کا فرد گورنر بن سکتا ہے۔ چائے بیچنے والا وزیرِ اعظم بن سکتا ہے۔ بھارتی ثقافت کے نصب العین وسودھیو کٹمبکم” کے مطابق تعلیم یافتہ شخص کا سب سے بڑا فرض محروموں اور غریبوں کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ پْراعتماد، جدت پسند اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنی تعلیم اور صلاحیت کے ذریعے خود کفیل، خوشحال، مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت بنانے میں حصہ لیں۔گورنر مسٹر پٹیل ایل این سی ٹی یونیورسٹی کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے رکنِ پارلیمنٹ مسٹر روی کشن، رکنِ پارلیمنٹ مسٹر راجیو شکلا، رکنِ پارلیمنٹ مسٹر دیوسنگھ چوہان، فلم اداکار اور کاسٹنگ ڈائریکٹر مسٹر مکیش چھابڑا، سیج گروپ کے چیئرمین مسٹر سنجیو اگروال کو ڈاکٹر آف فلاسفی کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ فارمیسی، قانون، انجینئرنگ، مینجمنٹ، صحافت اور میڈیکل سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی ڈگری اور گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلبہ کو اسناد پیش کی گئیں۔ مہمانوں نے یونیورسٹی کی کانووکیشن یادگار اور مسٹر جے نارائن چوکسی کی خودنوشت کتاب کا اجرا کیا۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کو یادگاری نشان پیش کر کے اعزاز دیا گیا۔
گورنر مسٹر منگوبھائی پٹیل نے کہا کہ کانووکیشن کی حلف برداری مستقبل کی زندگی کی رہنما ہے۔ حاصل کردہ ڈگری دل، زبان اور عمل سے ملک، معاشرے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا عہد ہے، جس پر سال کے 365 دن عمل کرنا فارغ التحصیل طلبہ کی ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی جانب سے نافذ کی گئی قومی تعلیمی پالیسی ایک انقلابی قدم ہے۔ اس پالیسی نے تعلیمی عمل کو زیادہ مؤثر، عملی اور نتیجہ خیز بنایا ہے۔ انہوں نے پالیسی کے تناظر میں تکنیکی اداروں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔ یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ روایتی تدریسی طریقوں سے آگے بڑھ کر جدید جہتوں کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کو وقت کے مطابق بنایا جائے۔ تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہ رکھا جائے۔ طلبہ کی تخلیقی صلاحیت اور جدت کو قوم کی تعمیر کی بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی اور گرین ٹیکنالوجی کو تعلیم کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا۔ طلبہ میں نظریاتی علم کے ساتھ ساتھ عملی، عصری اور عالمی معیار کے مطابق مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ طلبہ کو حقیقی زندگی سے جوڑنے کے لیے پروجیکٹ بیسڈ تعلیم، انٹرن شپ، انٹرپرینیورشپ اور اسکل ڈیولپمنٹ کے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ “نوکری تلاش کرنے والے” نہیں بلکہ نوکری دینے والے” بن سکیں۔ طلبہ سے اپنی صلاحیت اور فکر کے ذریعے معاشرے، ملک اور اپنی ترقی میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔وزیرمملکت پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود، ڈی نوٹیفائڈ، خانہ بدوش، نیم خانہ بدوش بہبود مسز کرشنا گور نے کہا کہ اس تقریب میں فارغ التحصیل ہونے والا ہر طالب علم تعلیم، تہذیب، جدت اور مہارت کا مجموعہ ہے اور قوم کی ترقی کے لیے ذمہ دار ہے۔