جبلپور:20؍جون:(پریس ریلیز) گزشتہ روز جبلپورکے مدرسہ عربیہ (بزمِ خادمان اردو ادب )میں ایک عظیم الشان بزمِ مسالمہ کا اہتمام کیا گیا مقررین اور شعرا حضرات کے علاوہ جبلپور شہر کی معززین موجود رہے۔ بابا صوفی شاہ صفوی، حاجی بابا عبدالحکیم خلیلی ،بابا احمد اشرفی کے پروگرام میں بھوپال، جھانسی، ممبئ اور برہان پور کے نمائندوں نے شرکت فرمائی ۔ مشہور زمانہ شاعر محترم منان فراز نے آرگنائزنگ کمیٹی میں اپنی گفتگو اور کلام سے رونق بخشی ۔
ماسٹر مقبول احمدابن مرحوم صغیر ریاض نے صوفیانہ مزاج و رنگ اور سرزمینِ ہند کے رشتوں پر روشنی ڈالی ۔
’’غمِ حسین نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے،،اِس مصرع پر خوب سے خوب تر شاعری اور سنجیدہ گفتگو سنی گئی نظامت کے فرائض جاوید رانا اور شکیل بابو نے انجام دیے ۔جبلپورمیں محرم کے ایام میں زبردست تازیہ داری، جلوس ،علم، نقارے اور نوجوانوں کے اکھاڑے نظر آتے ہیں ۔ کھچڑے ، حلیم اور شربتوں کی سبیل کا اہتمام اور چاروں طرف ہری روشنیوں کا پورے شہر میں ایک سلسلہ ہے ۔
اس موقع پر ثروت زیدی بھوپالی کی صوفیانہ نظم ۔ رہنمائی ۔ جو 35 اشعار پر مشتمل ہے اسکی اردو اور ہندی میں سینکڑوں کاپیز تقسیم کی گئی ۔
وہ بادشاہِ وقت و بزرگانِ دین سب
ماہر تھے اپنے اپنے فن، بےنظیر میں
ہر سمت گلستانِ محبت میں دیکھنے
اسلام کی بہار ہے بر صغیر میں








