رائسین، 18 جولائی: ضلع رائسین کی تحصیل غیرت گنج میں مسلسل بارش نہ ہونے کے باعث خشک سالی جیسے حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ کھیتوں میں بوئی گئی فصلیں مرجھانے لگی ہیں، کنوؤں اور نلکوں کا پانی مسلسل کم ہو رہا ہے، جبکہ کسان شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہی حالات کے پیشِ نظر ہفتہ کے روز غیرت گنج کے مسلم سماج نے سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے نمازِ استسقاء ادا کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بارش، رحمت اور مغفرت کی خصوصی دعائیں مانگیں۔قصبے سے باہر اُسرمیٹا روڈ پر واقع کھلے میدان میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے، جہاں نہایت عاجزی، خشوع و خضوع کے ساتھ دو رکعت نمازِ استسقاء ادا کی گئی۔ نماز کے بعد پورے ملک، ریاست اور علاقے میں وافر بارش، امن و امان، خوشحالی اور کسانوں کی فلاح کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔نماز کی امامت مفتی مشکور ندوی صاحب نے فرمائی۔ نماز کے اختتام پر حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر رقت آمیز انداز میں اپنے گناہوں پر توبہ و استغفار کیا، اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں کی معافی طلب کی اور بارانِ رحمت نازل فرمانے کی دعا کی۔ اس موقع پر فصلوں کی حفاظت، کسانوں کی خوشحالی، تالابوں، کنوؤں اور دیگر آبی ذخائر کے بھر جانے، نیز انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں، پرندوں اور تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت نازل ہونے کی بھی دعا کی گئی۔
اس موقع پر مفتی مشکور ندوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ نمازِ استسقاء رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے، جسے بارش رک جانے، قحط یا خشک سالی کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کے لیے سچی توبہ، استغفار، صدقہ و خیرات، نیک اعمال، عدل و انصاف، باہمی محبت، بھائی چارہ اور انسانیت کی خدمت کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد سے ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور امن و اخوت کی فضا قائم رکھنے کی بھی اپیل کی۔
واضح رہے کہ مانسون کا موسم شروع ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر علاقے میں خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے باعث کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ دھان، سویا بین، مکئی اور دیگر خریف فصلوں پر خشک سالی کے سائے منڈلا رہے ہیں، جبکہ تالاب، کنویں اور دیگر آبی ذخائر بھی مطلوبہ سطح تک نہیں بھر سکے ہیں۔ اگر جلد بارش نہ ہوئی تو زرعی پیداوار پر سنگین منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔مسلم سماج کی جانب سے ادا کی گئی یہ نمازِ استسقاء صرف ایک مذہبی عبادت نہیں بلکہ پورے علاقے کی خوشحالی، کسانوں کی فلاح، سرسبز و شاداب ماحول، بارانِ رحمت اور تمام مخلوقات کی بھلائی کے لیے اجتماعی دعا اور باہمی خیرخواہی کا ایک خوبصورت پیغام بھی ثابت ہوئی۔