نئی دہلی 7مئی: ’آپریشن سندور‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر کانگریس نے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس طرح الگ تھلگ نہیں پڑا، جیسا کہ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملے کے بعد ہوا تھا۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے برعکس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کا پُرجوش استقبال کیا ہے۔ جو حالات اس وقت دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان کا کچھ نہیں بگڑا۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’آپریشن سندور کو روکنے والی جنگ بندی کا پہلا اعلان 10 مئی 2025 کو شام 5:37 بجے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی مداخلت سے یہ ممکن ہو سکا۔‘‘ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے بعد میں بھی کئی بار اس دعوے کو دہرایا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے کبھی اس کی تردید نہیں کی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ 30 مئی 2025 کو سنگاپور میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے تسلیم کیا تھا کہ ہندوستان کو ابتدائی مرحلے میں اسٹریٹجک غلطیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم بعد میں حکمت عملی میں بہتری لا کر ہندوستانی فوج نے پاکستان کے اندر تیر بہ ہدف حملے کیے۔
جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ 10 جون 2025 کو جکارتہ میں ہندوستانی سفارت خانہ کے ڈیفنس اٹیچی نے اعتراف کیا تھا کہ 7 مئی 2025 کو سیاسی قیادت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو کچھ جنگی طیارے گنوانے پڑے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 جولائی 2025 کو فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے بیان دیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو چین سے گہری مدد ملی۔ اس میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے علاوہ سیٹلائٹ امیجری اور ریئل ٹائم ٹارگیٹنگ سپورٹ بھی شامل تھی۔









