نئی دہلی،7 مئی (یواین آئی ) امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں 11 جون سے 19 جولائی تک منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کرہ ارض کا سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ بننے جا رہا ہے۔ ‘بوفا گلوبل ریسرچ’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس ٹورنامنٹ کو دنیا بھر میں 6 ارب افراد دیکھیں گے، جو عالمی آبادی کا تقریباً 75 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے زیادہ ‘ڈیٹا انٹینسیو’ ایونٹ ہوگا۔ جہاں ٹیمیں اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سہارا لیں گی، وہیں شائقین روایتی ٹی وی کے بجائے اسٹریمنگ اور موبائل پلیٹ فارمز کو ترجیح دیں گے۔
صرف فائنل میچ کے دوران دنیا بھر کے مجموعی انٹرنیٹ ٹریفک کا 7 فیصد حصہ صرف فٹ بال کے لیے استعمال ہونے کا امکان ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے دوران 45,000 سال کے برابر 4K ویڈیو جتنا ڈیٹا پیدا ہوگا، جو کہ قطر ورلڈ کپ 2022 کے مقابلے میں 4,500 فیصد زیادہ ہے۔
ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھ کر 48 ہو گئی ہے، جو عالمی جی ڈی پی کے 62 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ تمام 48 ٹیموں کے کھلاڑیوں کی مجموعی قیمت 18 ارب ڈالر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رقم کا 10 فیصد حصہ اکیلے انگلینڈ کی ٹیم پر مشتمل ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں یورپی فٹ بال کلبوں کے درمیان ہونے والے سودوں کی مالیت 11.4 ٹریلین ڈالر رہی، جو کہ چین کی آدھی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔ٹورنامنٹ دیکھنے کے لیے آنے والے تماشائیوں کی ہوائی مسافت زمین سے نظامِ شمسی کے آخری کنارے تک کے فاصلے سے 3 گنا زیادہ ہوگی۔
صرف سونے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ورلڈ کپ ٹرافی کی قیمت میں 3,000 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک اوسط یورپی لیگ فٹ بالر ایک سیزن میں 910 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، جو لندن سے زیورخ تک کی مسافت کے برابر ہے۔ بینک آف امریکہ کے تعاون سے ہونے والا یہ ایونٹ نہ صرف فٹ بال بلکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اے آئی اور عالمی معیشت کے نئے افق کھولے گا۔