رانچی21مئی: جھارکھنڈ میں نکسلی محاذ پر سیکورٹی فورسز نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر 27 ماؤ نوازوں نے جمعرات کو رانچی میں پولیس ہیڈکوارٹر میں ڈی جی پی تداشا مشرا کے سامنے خودسپردگی کر دی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ’آپریشن نوجیون‘ کے تحت 25 سی پی آئی (ماؤسٹ) ممبران اور 2 جے جے ایم پی کیڈر کے ماؤ نوازوں سے خود سپردگی کرائی گئی۔ ان ماؤ نوازوں نے 16 ہتھیاروں کے ساتھ خود سپردگی کی ہے۔ ڈی جی پی تداشا مشرا کی قیادت میں سبھی نے ہتھیار ڈال دیے اور مین اسٹریم میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر ڈی جی پی نے کہا کہ آج کا دن استقبال کا دن ہے، اس کے ساتھ ہی ہم اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ماؤسٹ پولٹ بیورو کے رکن مسیر بیسرا اور سینٹرل کمیٹی ممبر اسیم منڈل کے قلعہ میں یہ بڑی نقب زنی
ہے۔ مسیر بیسرا سمیت بچے ہوئے دیگر بڑے ماؤ نوازوں کی خود سپردگی کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران لگاتار کوششیں کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ بھی آنے والے دنوں میں خود سپردگی کردیں۔ فی الحال منکی جنگلات میں مسیر بیسرا اور اسیم منڈل سمیت تقریباً 20 نکسلی بچ گئے ہیں جن کی سیکورٹی جوانوں نے چو طرفہ گپھرا بندی کر رکھی ہے۔ خود سپردگی کرنے والے ماؤ نوازوں میں خاص طور پر وندنا عرف شانتی، سنیتا سردار، ڈنگور بوپائی، بسنتی دیوگم، منیرام منڈا، انیشا کوڈا عرف رانی، سپنا عرف سورو کالوندیا، سوساری عرف دشمہ کالوندیا، برسا کوڈا عرف ہریسنگ، نواس، بملی تیو، نیتی مائی عرف نیتی ہیمبرم اور لادو تریا کے خلاف چائباسہ اور دیگر پولیس تھانوں میں کئی مجرمانہ معاملے درج ہیں۔








