بھوپال:21؍مئی:کو ثر صدیقی کی ربا عیوں کی مہک بھوپال سے نکل کر پورے ،،ملک میں پھیل چکی ہے ، ان کے چھ مجموعے رباعیات کے شا ئع ہو چکے ہے ۔ رباعی کے مطلع سے کوئی ایک مصر عہ خارج کرباقی تین مصرعوں پر مشتمل ایک نئی صنف ، ترانہ ، کے نام سے اختراع کرچکے ہیں جن کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ کلام پاک کی سورئہ رحمن کے ساتھ کچھ اور چھوٹی سورتوں اور آیات کریمہ کا بھی ربا عی کے فارم میں منظوم کر چکے ہیں ۔ ملک کے ستر (۷۰) کے قریب مشاہرین ادب اِس کا اعتر اف کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگا نوی بھا گلپوری کی ترانہ گوئی پر ایک کتاب ’’رعنما ‘‘شائع کر چکے ہیں۔
اس سلسلے میں رازی ابوذر (ہزاری با غ مقیم حال دہلی ) نے تازہ کتاب ’’مطالعۂ ربا عیات ِ کو ثر صدیقی ‘‘شائع کی ہے ۔ رازی ابوذر کئی زبانوں پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں ۔ ادبی موضوعات پر اُن کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ دہلی سے شائع ایک اردو رسالے ’’الہام‘‘ کی ادارت بھی کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں انہوں نے کوثر صدیقی کی 28 رباعیوں کا انگلش میں منظوم ترجمہ اور اردو نثر میں تشریح بیان کی ہے ۔ جس سے کوثر صدیقی کے مزاج اور معنویت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ رازی ابوذر کا یہ کام منفرد نوعیت کا ہے۔ جسے بھوپال کے اُردو ادب میں اضافہ کہا جا سکتا ہے۔ کتاب کا پیش لفظ پدم شری پروفیسر اخترالواسع اور ڈاکٹر مہتاب عالم، پرنسپل کا ریسپانڈنٹ ، نیوز ایٹیں اُردو، بھوپال نے لکھا ہے۔152صفحات کی یہ کتاب کوثر صدیقی کے مکان 79-Aگنوری مین روڈ بھوپال سے حاصل کی جا سکتی ہے۔قیمت 300 روپئے ہے۔









