نئی دہلی یکم جون: ہندوستان اور میانمار نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری، کنیکٹیویٹی، ترقیاتی شراکت داری، صلاحیت کی تعمیر، سیکورٹی اور سرحدی انتظام جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ پیر کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی وسیع بات چیت کے دوران، وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ نے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبو ط کرنے پر اتفاق کیا۔ میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے میانمار میں امن اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے وفاقی گورننس اور اقتصادی ترقی میں تجربات کے تبادلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ہندوستان کی “پڑوسی سب سے پہلے،” “ایکٹ ایسٹ” اور “اوشین” پالیسیوں کے مطابق میانمار کی حمایت کرے گا۔ آنگ ہلینگ اس وقت ہندوستان کے پانچ روزہ دورے پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ میانمار میں پارلیمانی انتخابات کے بعد صدر بننے کے دو ماہ سے بھی کم وقت کے بعد ہوا ہے۔ حکمران سین جونٹا کے خلاف برسوں کے مظاہروں کے بعد یہ انتخابات گزشتہ برس دسمبر اور جنوری میں کرائے گئے تھے۔ سین جونٹا نے یکم فروری 2021 کو تختہ پلٹ کے ذریعے آنگ سان سوچی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر کہا کہ وزیر اعظم مودی اور میانمار کے صدر کے درمیان ایک جامع بات چیت ہوئی، اور دونوں ممالک نے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک قابل اعتماد پڑوسی ہے اور میانمار کے لئے بحران کے وقت پہلا اتحادی ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ ہندوستان اور میانمار کے درمیان کثیر جہتی تعلقات کو مزید جلا بخشے گا۔