بھوپال 16جولائی: مدھیہ پردیش نے نئی دہلی میں منعقدہ بھارت ٹیکس-2026 اور ” انٹرایکٹو سیشن آن انویسٹمنٹ اپارچیونٹی ان مدھیہ پردیش ” کے ذریعہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی سمت میں بڑی فراہمی حاصل کی ہے۔ دونوں انعقادات میں ریاست کو 20,193 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن سے تقریباً 27,592 افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے قیام کے امکانات ہیں۔وز یر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور عالمی برانڈس کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کو ملک کا ابھرتا ہوا صنعتی اور ٹیکسٹائل مرکز قرار دیا اور انہیں جنوری 2027 میں منعقد ہونے والی گلوبل انویسٹرز سمٹ (GIS-2027) میں حصہ لینے کیلئے مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سرمایہ کاروں کو سازگار پالیسیاں، مضبوط بنیادی ڈھانچہ، ہنر مند افرادی قوت اور فوری انتظامی تعاون فراہم کر رہا ہے۔وز یر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ان سرمایہ کاری کی تجاویز، شراکت داریوں اور ایم او یو کے ذریعہ مدھیہ پردیش ملک کے سرکردہ سرمایہ کاری مقامات میں اپنی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا اور ترقی یافتہ بھارت-2047 کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔بھارت منڈپم میں منعقدہ ٹیکسٹائل راؤنڈ ٹیبل میں ریاست کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات صنعت، پی ایم متر ٹیکسٹائل پارک، تکنیکی ٹیکسٹائل، برآمدات کے فروغ، مہارت کی ترقی اور سرمایہ کاری حوصلہ افزائی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس انعقاد میں 1,592 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئیں، جن سے تقریباً 15,700 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔انٹرایکٹو سیشن کے دوران ایم پی آئی ڈی سی نے برآمدات کے فروغ، ای-کامرس، عالمی تجارت، ایم ایس ایم ای اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے سات اہم معاہدوں (ایم او یو)پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ دفاع، ڈیٹا سینٹر، آئی ٹی، اے آئی، سیمی کنڈکٹر، قابلِ تجدید توانائی، سیاحت اور فوڈ پروسیسنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیش کیے گئے۔دہلی سرمایہ کاری مکالمے میں دفاع، ڈیٹا سینٹر، ٹرانسفارمر مینوفیکچرنگ، الیکٹرانکس، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ اور کھلونا صنعت سمیت مختلف شعبوں میں 18,601 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئیں، جن سے تقریباً 11,892 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔