بھوپال:یکم؍جولائی:مزدوروں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی محنت کوڈز کے قواعد بنائے جائیں۔ قواعد کی تشریح اس طرح کی جائے کہ عام مزدور بھی آسانی سے سمجھ سکے۔ انہیں زیادہ سادہ، عملی اور مزدور مرکز بنایا جائے۔ یہ بات وزیر پنچایت و دیہی ترقیات اور محنت مسٹر پرہلاد سنگھ پٹیل نے وکاس بھون میں ریاست کی نئی محنت کوڈز کے مجوزہ ریاستی قواعد کے جائزے کے دوران کہی۔ وزیر نے کہا کہ نئی محنت کوڈز کا مقصد مزدوروں کو زیادہ سماجی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ مزدور اور آجر کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنا ہے۔
وزیرمسٹر نے ہدایت دی کہ مزدور بہبود بورڈز اور مختلف اداروں کی تشکیل میں ان شعبوں میں کام کرنے والے تجربہ کار کارکنوں کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے گروپ انشورنس اسکیم کے قواعد ایسے بنانے پر زور دیا کہ غیر منظم مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مل سکے۔ ساتھ ہی سنبل اسکیم کا دائرہ بڑھا کر زیادہ سے زیادہ اہل مزدوروں کو فائدہ پہنچانے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے حصے کی شراکت میں حکومت یا آجر کی شرکت سے اسکیموں کا نفاذ زیادہ آسان اور مؤثر ہوگا۔ وزیر نے مجوزہ قواعد میں کچھ دفعات کو مزید واضح اور حساس بنانے پر بھی زور دیا۔ انشورنس عدالت کے نظام، نیم عدالتی ڈھانچے اور مزدوروں کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔
قومی فلور ویج اور کم از کم اجرت کے حوالے سے وزیر نے کہا کہ زرعی مزدوروں کی مہارت، مارکیٹ کی حقیقی صورتحال اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں رائج اجرت کی شرحوں کا مناسب مطالعہ کر کے عملی فیصلے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مزدور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اجرت کے تعین کا عمل زیادہ حقیقت پسند بنایا جائے۔ صحافتی مزدوروں کے حوالے سے خصوصی دفعات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے صحافتی تنظیموں اور ان کے نمائندوں سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کو حساسیت کے ساتھ سن کر ان کے مفاد کے مطابق قواعد بنائے جائیں۔بین ریاستی مہاجر مزدوروں کی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل پورٹل تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ مہاجر مزدوروں کا درست ڈیٹا بیس بننے سے ان کے حقوق کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا۔ انہوں نے پنچایت سیکریٹریوں اور بلدیاتی اداروں کے وارڈ سطح کے افسران کی ذمہ داری اور جوابدہی طے کرنے کی ہدایت دی۔ مزدوروں کے حادثات کی فوری اطلاع اور مدد کے لیے فعال پورٹل اور ٹول فری ہیلپ لائن بنانے کے بھی احکامات دیے گئے۔ ٹرانس جینڈر اور معذور افراد کے لیے کام کی جگہوں پر سہولت، صفائی اور وقار سے متعلق واضح دفعات شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ انسپکٹر نظام کی جگہ سہولت کار (فیسلیٹیٹر) پر مبنی نظام کے نفاذ پر بھی غور کیا گیا۔
میٹنگ میں محکمہ کے سیکریٹری مسٹر رگھوراج راجندرن نے نئی محنت کوڈز کی اہم دفعات کی تفصیلی پرزنٹیشن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 29 مرکزی محنت قوانین کو ملا کر 4 نئی محنت کوڈز تیار کی گئی ہیں۔ ان کا مقصد معلومات پر مبنی رجسٹریشن نظام کو فروغ دینا، آجر اور ملازم کے درمیان بہتر تعلق قائم کرنا اور صنعتوں کو آسان کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی نظام میں ٹیکنالوجی پر مبنی رجسٹریشن، اداروں کو 24×7 کام کرنے کی سہولت، علیحدہ انشورنس عدالت، اپیل اتھارٹی، قومی فلور ویج، غیر منظم، گیگ اور پلیٹ فارم مزدوروں کے سماجی تحفظ کے قواعد، فکسڈ ٹرم ملازمین کے لیے ایک سال کی خدمت پر گریجویٹی کی اہلیت اور بین ریاستی مہاجر مزدوروں سے متعلق نئے قواعد شامل ہیں۔میٹنگ میں محکمے کے سینئر افسران موجود تھے۔