بھوپال:یکم؍جولائی:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی مؤثر قیادت میں روایتی آبی ذرائع کو بحال کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے مقصد سے شروع کیا گیا’’جل گنگا سنوردھن ابھیان‘‘سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست سمیت ملک اور بیرونِ ملک کے تقریباً 7 کروڑ خاندانوں تک پہنچ کر عوامی شمولیت کی ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہے۔ کم بارش کے پیش نظر پانی کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کے وژن کے ساتھ شروع ہونے والا یہ عظیم مہم 30 جون 2026 کو شاندار انداز میں مکمل ہوا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی اور وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کے مضبوط عزم سے یہ مہم ایک سرکاری پروگرام سے بڑھ کر ایک عالمی عوامی تحریک بن گئی۔
؎ اس مہم کو سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر معمولی عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر سرکاری سطح سے روزانہ آگاہی پوسٹرز، مختصر فلمیں اور انفورگرافکس شیئر کیے گئے۔ جل گنگا سنوردھن مہم، جل ہے تو کل ہے۔ #WaterConservation اور#SaveWater جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے یہ پیغام ملک بھر تک پھیلا، جس سے تقریباً 6 کروڑ 95 لاکھ 74 ہزار 820 سے زائد افراد تک ڈیجیٹل رسائی ہوئی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی مسلسل نگرانی اور خصوصی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر کام انجام دیے گئے۔ 10,514 کروڑ روپے کی لاگت سے 3 لاکھ 63 ہزار سے زائد آبی ڈھانچے تعمیر اور بحال کیے گئے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے 67,708 کھیت تالاب، 225 امرت سروور اور 97,614 کنوؤں کی ریچارج ساختیں تیار کی گئیں۔ اس کے علاوہ 10 ہزار سے زائد کنوؤں، دریاؤں اور قدیم باولیوں کی صفائی اور خوبصورتی کے کام کیے گئے اور انہیں تجاوزات سے پاک کیا گیا۔ ان اقدامات کی بدولت مدھیہ پردیش آبی تحفظ میں ملک کی صفِ اوّل کی ریاست بن گیا ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے خود مختلف اضلاع کا دورہ کر کے عطیہ محنت کیا اور معاشرے کے ہر طبقے کو ترغیب دی۔
انہوں نے 19 مارچ 2026 کو اندور سے اس کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا، دھار میں دیوی ساگر تالاب کی گہراائی، اجین میں شپرا تیرتھ پریکرما، بھوپال میں ‘‘سدا نیرہ سمّیلن’’ اور راج گڑھ میں اختتامی تقریب میں فعال شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ‘‘پانی ہے تو کل ہے’’ اور حکومت پانی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اس لیے یہ کام آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
اس مہم کے اختتام کے ساتھ ہی ماحولیات کے تحفظ کے لیے ‘‘ایک پیڑ ماں کے نام’’ شجرکاری مہم اور 1 جولائی سے ‘‘وکست بھارت – دیہی روزگار و ذریعہ معاش مشن’’ کا بھی آغاز کیا گیا۔یہ آبی تحفظ اور عوامی شمولیت کا یہ پروگرام مدھیہ پردیش کو ملک کی صفِ اوّل کی ریاستوں میں لے آیا ہے، جبکہ کھنڈوا نے آبی تحفظ میں ملک کے پہلے ضلع کے طور پر پہچان حاصل کی ہے۔ یہ مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت اور عوام ساتھ ہوں تو آبی تحفظ صرف ایک منصوبہ نہیں رہتا بلکہ ایک مضبوط عوامی تحریک بن جاتا ہے۔