نئی دہلی، 29 مارچ (یو این آئی) سابق خاتون مکے باز ایم سی میری کوم نے اتوار کو ہندوستان کے قبائلی سماج کے درمیان کھیلوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان برادریوں کے لوگوں میں بین الاقوامی سطح پر فاتح بننے کے لیے ضروری جسمانی صلاحیت اور ذہنی مضبوطی موجود ہے۔اے آئی بی اے (آئیبا) خاتون عالمی باکسنگ چیمپئن شپ میں چھ بار گولڈ میڈل جیتنے والی کوم نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی سوئمنگ کمپلیکس میں منعقدہ ‘فٹ انڈیا سنڈیز آن سائیکل’ پروگرام کے دوران یو این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اگر قبائلی کھلاڑیوں (مرد اور خواتین دونوں) کو صحیح تعاون ملے، تو وہ یقینی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود ‘کوم’ برادری سے آنے والی ایک قبائلی خاتون ہوں۔ قبائلی لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں کے حالات کافی مشکل ہوتے ہیں، ان میں زبردست جسمانی اور ذہنی مضبوطی ہوتی ہے اور انہیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت زیادہ سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ قبائلی لوگ قدرتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، اور مجھے لگتا ہے کہ اگر انہیں صحیح مقدار میں تعاون اور بیداری ملے، تو وہ کھیلوں کے شعبے میں یقینی طور پر بہت آگے بڑھیں گے۔2012 کے لندن اولمپک میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی اس کھلاڑی نے چھتیس گڑھ میں چل رہے پہلے ‘کھیلو انڈیا قبائلی کھیل 2026’ کی جم کر تعریف کی۔ ان کھیلوں میں 30 ریاستوں کے قبائلی ایتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں۔ منتخب کیے گئے کھلاڑیوں کو ‘کھیلو انڈیا مراکز میں شامل کیا جائے گا، اور وہاں سے جو سب سے بہترین کھلاڑی ہوں گے، انہیں ‘نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس کے لیے چنا جائے گا۔ میری کوم نے کہا کہ انہیں مفت میں ٹریننگ ملے گی، اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔ قبائلیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔









