بھوپال:05؍اپریل:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاست میں کسانوں کو مویشی پروری کے لیے ترغیب دے کر مختلف اسکیموں کے ذریعے دودھ کی پیداوار اور مویشی پروری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مویشی پروری کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور وہ خود کفیل بنیں گے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم ریاست میں دودھ کی پیداوار کو مسلسل بڑھائیں گے اور سال 2028 تک ریاست کو ملک کا ’ملک کیپٹل‘ بنائیں گے۔ گئوتحفظ اور افزائش حکومت کی ترجیح ہے اور اس کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں محکمہ مویشی پروری کا نام اب گاؤپالن محکمہ رکھ دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ ریاست میں ‘‘خود کفیل گئوشالاؤں کے قیام کی پالیسی-2025’’ نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت شہری علاقوں میں موجود گئونسل (مویشی) کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 5 ہزار سے زائد گنجائش والی بڑی گئوشالائیں قائم کی جا رہی ہیں۔ ریاست کے آگر مالوہ، اندور، گوالیار اور اجین اضلاع میں ماڈل گئوشالائیں قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ بھوپال، جبل پور اور ساگر میں ان کی تعمیر جاری ہے۔ گوالیار میں قائم ماڈل گئوشالا میں ملک کا پہلا 100 ٹن صلاحیت والا سی این جی پلانٹ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ فی الحال ریاست ملک کی کل دودھ پیداوار میں تقریباً 9 فیصد حصہ رکھتی ہے، جسے بڑھا کر 20 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ریاست میں سانچی برانڈ کو مزید مقبول بنانے کے لیے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (NDDB) کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ گئونسل کے تحفظ اور افزائش کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ گئو سنوردھن بورڈ کے ذریعے گئوشالاؤں کو چارہ کے لیے 505 کروڑ روپے کے بجٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔گئوشالاؤں میں مویشیوں کی بہتر خوراک کے لیے فی جانور دی جانے والی امداد 20 روپے یومیہ سے بڑھا کر 40 روپے یومیہ کر دی گئی ہے۔ زخمی یا بے سہارا گایوں کے لیے ہائیڈرولک کیٹل لفٹنگ گاڑیوں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ مویشی پروری اور ڈیری ترقی کو فروغ دینے کے لیے ‘‘وزیر اعلیٰ مویشی پروری ترقی اسکیم’’ کا نام بدل کر ‘‘ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ترقی اسکیم’’ رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت 25 دودھ دینے والے جانوروں پر مشتمل ڈیری یونٹ قائم کرنے کے لیے تقریباً 42 لاکھ روپے تک قرض کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس میں 25 سے 33 فیصد تک سبسڈی شامل ہے۔
ریاست میں دودھ کی پیداوار اور جمع کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے وسیع منصوبہ بنایا گیا ہے۔ دودھ جمع کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر روزانہ 50 لاکھ لیٹر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آئندہ 5 سالوں میں دودھ جمع کرنے والے دیہات کی تعداد 9 ہزار سے بڑھا کر 26 ہزار کرنے کا ہدف ہے۔ اسی مدت میں کم از کم 50 فیصد دیہات میں بنیادی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی جائیں گی۔
اب تک ریاست میں 1,181 نئی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی جا چکی ہیں اور 617 غیر فعال سوسائٹیوں کو دوبارہ فعال بنایا گیا ہے، جن میں تقریباً 150 کثیر المقاصد سوسائٹیاں بھی شامل ہیں۔ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہر بلاک میں ایک ’ورنداون گاؤں‘ تیار کیا جا رہا ہے۔
گئو تحفظ اور افزائش کے میدان میں مدھیہ پردیش ملک کا ایک نمایاں ریاست بن رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ دودھ دینے والے مویشی اسکیم، کامدھینو رہائش اسکیم، وزیر اعلیٰ ڈیری پلس پروگرام اور نسل کی بہتری کے پروگرام سمیت مختلف اسکیموں پر مؤثر عمل جاری ہے۔
انتہائی پسماندہ قبائلی طبقات جیسے بیگا، سہریا اور بھاریا کے مویشی پالنے والوں کے لیے ریاست کے 14 اضلاع میں وزیر اعلیٰ دودھ دینے والے مویشی اسکیم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت 90 فیصد سبسڈی پر دو مورا بھینس یا گائیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ ڈیری پلس پروگرام کو سیہور، ودیشا اور رائے سین اضلاع میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت کے نیشنل گوکل مشن کے تحت ریاست میں 1500 ’میتری‘ (ملٹی پرپز آرٹیفیشل انسیمینیشن ٹیکنیشن) مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے مصنوعی بارآوری کے ذریعہ مویشیوں کی نسل بہتر بنانے کا کام مسلسل جاری ہے۔