نئی دہلی 31مئی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تعلیمی نظام، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مسائل کو لے کر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک تفصیلی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو بدعنوانی کے جال میں پھنسا کر تعلیمی نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ’ایگزام واریئر‘ بنانے کی بات کرتی رہی لیکن جب طلبہ نے سوال اٹھائے تو انہیں مختلف القابات دے کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے امتحان دینے والے طلبہ ہوں یا قومی اہلیت و داخلہ امتحان کے امیدوار، نوجوانوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک وقت تھا جب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، مرکزی جامعات اور دیگر قومی ادارے ملک کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ایک بورڈ امتحان کا انعقاد بھی تنازعات سے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ ان کے مطابق یہ صورت حال حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو کمزور کیا گیا، مرکزی جامعات میں انتقامی سیاست کو فروغ دیا گیا اور قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کی کتابوں سے تاریخ کے اہم حصے ہٹا دیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعات میں طلبہ کی آواز دبائی گئی، مختلف تحریکوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور وائس چانسلروں کی تقرریوں میں نظریاتی مداخلت کی گئی۔









