نئی دہلی یکم جون: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی حکومت کے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے جس کے تحت نئے راشن کارڈ کے لیے سالانہ آمدنی کی حد 1.20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2.50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ راشن نظام کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے اور واقعی مستحق و غریب خاندانوں کے حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر نریش کمار نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ راشن تقسیم کا نظام بنیادی طور پر معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقوں کو سہارا فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آمدنی کی حد میں نمایاں اضافے کے بعد مستفید ہونے والوں کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں کے مفادات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کی موجودگی میں حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ کمزور اور ضرورت مند افراد کو ترجیح دے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سالانہ 2.50 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے خاندان بھی اسی زمرے میں شامل ہو جائیں گے تو حکومت غریب ترین خاندانوں کو ترجیحی بنیادوں پر فائدہ پہنچانے کو کیسے یقینی بنائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ نئے معیار کے تحت کتنے اضافی خاندان راشن کارڈ کے اہل بن جائیں گے اور اس فیصلے کا موجودہ مستفیدین پر کیا اثر پڑے گا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ دہلی حکومت نے اب تک خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے خاندانوں کے راشن کارڈ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نئے راشن کارڈ جاری کرنے کی تشہیر میں مصروف ہے، لیکن انتہائی غریب خاندانوں کے مسائل اور خدشات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، حالانکہ یہی طبقہ سرکاری امداد کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ ڈاکٹر نریش کمار نے دعویٰ کیا کہ حکومت راشن کارڈ کے حصول کو آسان بنانے کے دعوے کر رہی ہے، مگر آمدنی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہی درخواست گزاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پہلے آن لائن درخواست دینی پڑتی ہے اور اس کے بعد اصل دستاویزات کی جانچ کے لیے بار بار سب ڈویژنل مجسٹریٹ دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جہاں انہیں طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔