واشنگٹن5اگست: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد از جلد بحری آمدورفت کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ تاہم ایران نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت کر رہا ہے، لیکن اگر آبنائے ہرمز کے معاملے پر فوری پیش رفت نہ ہوئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے کیونکہ یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی رسد سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اوول آفس میں بھی کہا تھا کہ وہ ایران کو ’آخری موقع‘ دے رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ ان کے مطابق امریکہ اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کی بحالی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست بات چیت جاری نہیں ہے۔ تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’اس وقت امریکہ کے ساتھ ہماری کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت عراق کے دورے پر ہیں، جبکہ دیگر متعلقہ حکام ایران میں موجود ہیں۔ اسماعیل بقائی کے مطابق ایران صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق مشاورت کر رہا ہے اور ان مذاکرات میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت نہیں ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت ایک عارضی انتظام سے متعلق ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور جہاز رانی کے نظام کو محفوظ رکھنا ہے۔ ادھر، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کا رویہ متضاد ہے۔ ان کے بقول، ایک طرف ایران ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کرتا ہے۔









