بھوپال 5اگست:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا، ” محنت، نظم و ضبط اور خود اعتمادی ہی کامیابی کی وہ کنجی ہیں جو طلبہ کو ان کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ آج انہی نوجوانوں کے چہروں پر مجھے بھارت کا روشن مستقبل دکھائی دیتا ہے۔” انہوں نے یہ بات بدھ کے روز ٹی ٹی نگر میں واقع کملا نہرو ساندیپنی سرکاری گرلز اسکول میں طالبات اور اساتذہ کے ساتھ منعقدہ دوستانہ مکالمے کے پروگرام میں کہی۔اسکول میں مکالمے کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے ‘ماسٹر ٹرینر کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے طالبات کو کامیابی کے قیمتی مشورے دیے اور یقین دلایا کہ “آج کا طالب علم ہی کل کا بھارت ہے”۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے ہر خواب کو حقیقت بنانے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ “ترقی یافتہ بھارت” کے عزم کی تکمیل میں نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امرت کال کی یہی نوجوان نسل ریاست اور ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس وقت ملک امرت کال سے گزر رہا ہے۔ آج کے نوجوان ملک کی امرت نسل اور نئے بھارت کے معمار ہیں۔ سن 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کا خواب نوجوانوں کی مشترکہ کوششوں سے ہی پورا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج نوجوان بڑے خواب رکھتے ہیں تو میں خود اور ہماری پوری حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے بھرپور محنت کریں، کیونکہ مستقبل کا مدھیہ پردیش اور ترقی یافتہ بھارت آپ ہی کی محنت سے تعمیر ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کملا نہرو ساندیپنی سرکاری گرلز اسکول کی مختلف جماعتوں، لائبریری، موسیقی کے کمرے، تجربہ گاہ اور دیگر سہولتوں کا معائنہ بھی کیا۔ اسکول کی طالبات نے انہیں پودا پیش کرکے ان کا استقبال کیا۔وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ میں نے بھی اپنی تعلیم ایسے ہی ایک سرکاری اسکول میں حاصل کی ہے۔ ہمارے زمانے میں اسکولوں میں اتنی سہولتیں نہیں تھیں۔ بھارت کو اپنی تعلیمی نظام اور علم کی بدولت دنیا میں عزت حاصل ہے۔ بھارت کا مطلب ہے وہ جو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جائے۔ اسی طرح استاد بھی ہمیں تاریکی سے روشنی کی راہ دکھاتا ہے۔

بھارتی تہذیب “جیو اور جینے دو” اور “وسودھیو کٹمبکم” یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، کے اصول پر قائم ہے۔ بھارتی گروکل روایت اور نظامِ تعلیم کا ایک شاندار ماضی رہا ہے۔ دنیا میں بھارت کے علاوہ کئی ممالک معاشی طور پر زیادہ طاقتور ہیں، لیکن صرف دولت سے ملک نہیں چلتا، بلکہ اخلاقی اقدار اور بہترین کردار ہی قوموں کو آگے بڑھاتے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس وقت ہمارے ساندیپنی اسکول ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ کملا نہرو اسکول کی 58 طالبات میرٹ میں کامیاب ہوئی ہیں۔ آج نجی اسکولوں کے طلبہ بھی ساندیپنی اسکولوں میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینئر اور فوجی افسر بنیں۔ طلبہ کو زراعت کے شعبے میں بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کے جمہوری نظام کو مضبوط رکھنا ہے تو سیاست میں بھی آنا ہوگا۔ نوجوان تعلیم حاصل کرکے زراعت، مویشی پروری اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں ترقی کریں، ملک اور ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں۔ ریاستی حکومت نے اس مقصد کے لیے کئی عوامی فلاحی منصوبے تیار کیے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے طالبات کو مدھیہ پردیش کے نئے تعلیمی سفر کے حوالے سے حکومت کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ساندیپنی اسکول صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کی تعمیر کی تجربہ گاہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں محکمہ اسکولی تعلیم کے 274 اور محکمہ قبائلی امور کے 94 ساندیپنی اسکول کامیابی سے چل رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں محکمہ اسکولی تعلیم کے مزید 200 اور محکمہ قبائلی امور کے 205 نئے ساندیپنی اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں لا کر ہم ایک نئے مدھیہ پردیش اور نئے بھارت کی تعمیر کر رہے ہیں۔